ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں ہفتہ کو 20ویں ایشین گیمز کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر پورے ایشیا سے آئے کھلاڑی ایک جگہ جمع ہوئے اور براعظم کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شامل ایشین گیمز 2026 کا باضابطہ آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب کے دوران اسٹیڈیم رنگ برنگی روشنیوں، موسیقی اور شاندار ثقافتی پیشکشوں سے جگمگا اٹھا۔ کچھ دیر کے لیے میڈلز اور مقابلوں کی کشمکش پس منظر میں چلی گئی اور کھلاڑیوں کے ساتھ شائقین نے بھی اس تاریخی لمحے کا بھرپور لطف اٹھایا۔ جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو نے آئیچی-ناگویا میں منعقد ہونے والے براعظمی کھیلوں کے 20ویں ایڈیشن کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کھیلوں کے میلے کا باضابطہ آغاز ہوگیا، جس میں آئندہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
منو بھاکر اور پون سہراؤت نے سنبھالی ہندوستانی دستے کی کمان
ہندوستان کے لیے افتتاحی شام خاص اہمیت رکھتی تھی۔ ہندوستانی دستے کی قیادت دو مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے کی۔ اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر اور کبڈی اسٹار پون سہراؤت ہاتھوں میں بلند ترنگا تھامے ہندوستانی دستے کے چہرے بنے۔ منو بھاکر کی موجودگی نے تقریب میں اولمپک میڈل کی چمک پیدا کی، جبکہ پون سہراؤت نے ہندوستان کے مقبول روایتی کھیل کبڈی کی نمائندگی کی۔ وہ گزشتہ ایشین گیمز میں ہندوستان کے طلائی تمغہ جیتنے والے کبڈی دستے کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔
آخری وقت میں پون سہراؤت بنے پرچم بردار
ابتدا میں پون سہراؤت کو منو بھاکر کے ساتھ ہندوستان کا پرچم بردار بنانا طے نہیں تھا۔ شاٹ پٹ کھلاڑی تاجندرپال سنگھ تور کو ہندوستان کا مرد پرچم بردار منتخب کیا گیا تھا، لیکن ایک تکنیکی مسئلے کے باعث وہ افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔ آخری وقت میں ہونے والی اس تبدیلی کے بعد پون سہراؤت کو پرچم بردار بنایا گیا۔ تاہم جیسے ہی ہندوستانی دستہ ترنگا تھامے اسٹیڈیم میں داخل ہوا، یہ تبدیلی پس منظر میں چلی گئی اور توجہ ہندوستانی کھلاڑیوں پر مرکوز ہوگئی۔
ترنگے کے ساتھ ہندوستانی دستے کی شاندار انٹری
جیسے ہی ہندوستانی دستہ اسٹیڈیم میں داخل ہوا، ترنگا پورے میدان میں بلند نظر آیا۔ ایتھلیٹس نے شائقین کا استقبال کیا اور کیمروں نے اس یادگار لمحے کو محفوظ کرلیا، جو ناگویا ایشین گیمز کی ابتدائی یادوں کا حصہ بن گیا۔ افتتاحی تقریب میں مقابلوں کے بجائے جاپان کی ثقافت اور ورثے کو نمایاں کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی۔ روایتی جاپانی عناصر کو جدید فن، ٹیکنالوجی اور موسیقی کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا جشن پیش کیا گیا جس میں جاپان کی قدیم ثقافتی شناخت اور جدید تشخص دونوں کی جھلک دکھائی دی۔ جاپان کے شہنشاہ اور ملکہ کی موجودگی نے بھی تقریب کی اہمیت بڑھا دی۔ اسٹیڈیم کے باہر ناگویا شہر نے ایشیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور کھیل شائقین کے استقبال کے لیے کئی دنوں تک تیاریاں کی تھیں۔ اسٹیڈیم کے اندر ماحول مکمل طور پر جشن میں تبدیل ہوگیا، جہاں روشنیوں، موسیقی اور ثقافتی پروگراموں نے افتتاحی تقریب کو یادگار بنا دیا۔
اب اصل مقابلوں کا ہوگا آغاز
افتتاحی تقریب نے کھلاڑیوں کو کچھ دیر کے لیے رکنے، ایک ساتھ کھڑے ہونے اور ایک کمیونٹی کے طور پر ایشین گیمز کا تجربہ کرنے کا موقع دیا۔ تاہم ایتھلیٹس کے لیے اصل سفر اب شروع ہوا ہے۔ جلد ہی توجہ اہداف، وقت، حکمت عملی، پوائنٹس اور میڈلز پر مرکوز ہوجائے گی۔ ہندوستان ناگویا ضرور پہنچ گیا ہے، لیکن ہانگژو ایشین گیمز 2023 کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ ہانگژو میں ہندوستان نے تاریخی طور پر 107 میڈلز جیتے تھے، جن میں 28 طلائی تمغے شامل تھے۔ اس کارکردگی نے آئندہ مقابلوں کے لیے توقعات بھی بڑھا دی ہیں۔ تاہم ہر ایشین گیمز کی اپنی الگ کہانی ہوتی ہے۔ کچھ ابواب معروف چیمپئنز کے نام ہوں گے، کچھ ان کھلاڑیوں کے جو پہلی بار براعظمی کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ کچھ لمحات ایسے ہوں گے جو کسی ایک سیکنڈ، ایک مقابلے، ایک کوشش یا ایک فائنل کے ذریعے کھلاڑی کے پورے کیریئر کی یادگار بن جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…
پولیس کے مطابق ملن پردھان کو پرانے مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔…
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…
صدر کے عہدے پر اے بی وی پی کے یش ڈباس کو 1,044 ووٹوں کی…
ایشین گیمز 2026 میں اتوار کو بھارت کے کئی اہم مقابلے، خواتین کرکٹ ٹیم کی…