قومی

Repatriation of Antiquities: بھارت-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں ثقافتی ورثے کی واپسی کا اہم اعلان، بھدرکالی کا ترشول، نندی اور شنمکھ کارتکیہ کا مجسمہ بھارت کے حوالے کرے گا آسٹریلیا

میلبورن: بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ثقافتی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتے ہوئے آسٹریلیا نے اپنی مختلف ثقافتی اداروں میں محفوظ تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے تین اہم تاریخی و ثقافتی نوادرات رضاکارانہ طور پر بھارت کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اعلان کا اظہار جمعرات کو میلبورن میں منعقدہ تیسرے بھارت-آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز کے درمیان تفصیلی دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔

بھارت کو واپس کیے جائیں گے تین قیمتی نوادرات

گورنمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی کا رسمی اور روایتی استقبال کیا گیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان انفرادی اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ اس موقع پر بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے چھ برس مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی نوادرات کے احترام کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ جن نوادرات کو بھارت واپس کیا جائے گا ان میں مقدس نندی کا مجسمہ، بھدرکالی کی علامت والا دھاتی ترشول اور شنمکھ کارتکیہ (چھ چہروں والے کارتکیہ) کا پتھر کا مجسمہ شامل ہے۔ یہ تینوں قدیم نوادرات تمل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت آسٹریلیا کے ثقافتی اداروں میں محفوظ ہیں۔ مقررہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں بھارت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

تجارت، تعلیم اور دفاعی تعاون پر بھی اتفاق

بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سربراہ اجلاس میں تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خلائی تعاون، پُرامن جوہری توانائی، صاف توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا، جس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ عزم کا اعادہ

وزیر اعظم نریندر مودی اور انتھونی البانیز نے آسٹریلیا-بھارت سی ای او فورم اور اکنامک بزنس روڈ میپ پروگرام کے مثبت نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے صنعتی شعبے سے نئی سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔ تعلیم کے میدان میں بڑھتے ہوئے تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا اور بھارت میں آسٹریلوی جامعات کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو اختراع، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ اجلاس میں آسٹریلیا میں مقیم بھارتی برادری کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارتی تارکینِ وطن دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط ثقافتی اور سماجی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ثقافتی نوادرات کی واپسی کے فیصلے کو بھی باہمی اعتماد، احترام اور گہرے تعلقات کی علامت قرار دیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Manoj Jha Statement: پٹنہ میں سی ای سی کے خلاف احتجاج پر منوج جھا بولے، ’جمہوریت کے لیے مشکل وقت، اب مسلسل ہوں گے مظاہرے‘

راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)…

16 minutes ago

Air India EasyRoom: ایئرپورٹ پر سم تلاش کرنے کی پریشانی ختم، ایئر انڈیا کا ایزی روم مسافروں کے لیے نئی سہولت

ایئر انڈیا کی اس نئی سہولت کا مقصد بیرون ملک پہنچنے کے بعد مقامی سم…

1 hour ago

Tejashwi Yadav Raj Bhavan March: راج بھون مارچ سے بہار کی سیاست گرم، تیجسوی یادو نے لگائے ووٹ چوری کے الزامات

بہار میں راج بھون مارچ کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ اسمبلی…

2 hours ago