نئی دہلی : بھارت کی سب سے بڑی قابلِ تجدید توانائی کمپنی اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے مالی سال 2025-2026 کے نتائج جاری کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمپنی نے اس عرصے میں 5.1 گیگاواٹ گرین فیلڈ صلاحیت کا اضافہ کیا، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے، جبکہ کور EBITDA میں 23 فیصد اضافہ ہو کر 10,865 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔کمپنی کی آمدنی اور منافع میں اضافہ بنیادی طور پر نئی توانائی منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر آپریشنل کارکردگی کی بدولت ممکن ہوا۔ خاص طور پر گجرات کے Khavda اور راجستھان میں نئے منصوبوں کی تکمیل نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے کہا کہ مالی سال 2026 کمپنی کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا، جس میں 5.1 گیگاواٹ نئی صلاحیت شامل کر کے مجموعی آپریشنل صلاحیت 19.3 گیگاواٹ تک پہنچا دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین سے باہر کسی بھی کمپنی کی جانب سے یہ سب سے بڑا سالانہ گرین فیلڈ اضافہ ہے، جس نے کمپنی کو عالمی سطح پر ایک منفرد مقام پر پہنچا دیا ہے۔
AGEL نے بیٹری انرجی اسٹوریج کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی نے Khavda میں 1,376 میگاواٹ آور (MWh) کی بیٹری اسٹوریج صلاحیت نصب کی، جو دنیا کی بڑی سنگل لوکیشن تعیناتیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کمپنی کا ہدف مالی سال 2027 تک اسے 10,000 MWh سے زائد تک بڑھانا ہے۔کمپنی کے مطابق اس کا 19,294 میگاواٹ کا آپریشنل پورٹ فولیو 87 لاکھ سے زائد گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے اور سالانہ تقریباً 36 ملین ٹن کاربن اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کی صاف توانائی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کارکردگی کے حوالے سے کمپنی نے 34 فیصد سالانہ اضافہ کے ساتھ توانائی کی فروخت میں بھی نمایاں بہتری دکھائی۔ جدید ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال سے آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پلانٹس کی دستیابی بڑھی اور لاگت میں کمی آئی۔ کمپنی کا EBITDA مارجن 91 فیصد تک پہنچ گیا، جو صنعت میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔AGEL اس وقت دنیا کے سب سے بڑے قابلِ تجدید توانائی منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، جو گجرات کے Khavda میں قائم کیا جا رہا ہے۔ 30 گیگاواٹ صلاحیت کے اس منصوبے کا رقبہ 538 مربع کلومیٹر ہے، جو پیرس شہر سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہے۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ 2029 تک اس منصوبے کو مکمل کر لیا جائے۔کمپنی نے جدید ترین بائی فیشل سولر ماڈیولز، طاقتور ونڈ ٹربائنز اور واٹر لیس روبوٹک صفائی جیسی ٹیکنالوجیز کو اپنایا ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور پانی کے استعمال میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔واضح رہے کہ AGEL بھارت میں 50 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ملک کے ڈی کاربنائزیشن اہداف کے عین مطابق ہے۔ کمپنی کی یہ کارکردگی نہ صرف اس کی مضبوط حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر صاف توانائی کے شعبے میں اس کی قیادت کو بھی مستحکم بناتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…