بین الاقوامی

China Remove General Zhao During Dobhal Visit: ڈووال کے چین دورے کے دوران بڑا واقعہ، ’گالوان کے ماسٹر مائنڈ‘ جنرل ژاؤ کو اہم عہدوں سے کیا گیا برطرف

بھارت اور چین کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کے دوران بیجنگ سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ چین نے پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے سابق ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سربراہ جنرل ژاؤ زونگ چی (Zhao Zongqi) کو چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (CPPCC) سمیت کئی اہم عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ جنرل ژاؤ کا نام 2017 کے ڈوکلام تنازع اور جون 2020 کی گالوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران چینی فوج کی حکمت عملی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ اسی دوران بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال چین کے دورے پر موجود تھے۔ ڈووال نے چین میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر مذاکرات میں شرکت کی ہے۔

’گالوان کے ماسٹر مائنڈ‘ پر چینی کارروائی

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل ژاؤ زونگ چی کو چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی رکنیت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دو دیگر اہم عہدوں سے بھی برطرف کیا گیا ہے۔جنرل ژاؤ نے PLA کی ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کی قیادت کے دوران بھارت کے ساتھ سرحدی علاقوں، خاص طور پر لداخ میں فوجی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ڈوکلام تنازع اور بعد میں گالوان وادی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران بھی ان کا نام چینی فوج کی کارروائیوں سے وابستہ رہا۔

ڈووال کی موجودگی میں کارروائی نے بڑھائی دلچسپی

چین میں جنرل ژاؤ کے خلاف کارروائی کے وقت اجیت ڈووال کی موجودگی نے اس پیش رفت کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم دونوں واقعات کے درمیان براہ راست تعلق کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران جنرل ژاؤ کا نام مسلسل زیر بحث رہا ہے۔ خاص طور پر گالوان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں طویل عرصے تک تناؤ برقرار رہا اور سرحد پر فوجی تعیناتی بھی بڑھائی گئی۔

امریکی رپورٹ میں بھی ژاؤ کا ذکر

سال 2020 میں امریکی انٹیلی جنس سے متعلق ایک جائزے کے حوالے سے رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل ژاؤ نے بھارت پر دباؤ بڑھانے اور اپنی فوجی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے گالوان وادی میں کارروائی کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا تھا۔15 جون 2020 کو گالوان وادی میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس واقعے میں بھارت کے 20 فوجی اہلکار شہید ہوئے تھے۔ چین نے بھی اپنے فوجیوں کے ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا، تاہم اس کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد طویل عرصے تک واضح نہیں کی گئی۔

چینی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

جنرل ژاؤ کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے فوج میں بدعنوانی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ چینی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بھی مختلف الزامات میں کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔رپورٹس میں پیپلز لبریشن آرمی کے اعلیٰ افسران ژانگ یو شیا (Zhang Youxia) اور لیو ژین لی (Liu Zhenli) کے خلاف بھی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام اقدامات کو چین کی فوج کے اندر کسی مبینہ بغاوت یا اختلاف سے جوڑنے سے قبل سرکاری معلومات اور مزید شواہد کا انتظار ضروری ہے۔ جنرل ژاؤ کو اہم عہدوں سے ہٹایا جانا اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ چین کی فوجی قیادت میں ایک بااثر شخصیت رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے دوران ان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

2 hours ago

Chandrashekhar Azad Attacks on Yogi Government: بہوجن سماج کے بچوں کو افسر نہیں، نشے کا عادی بنانا چاہتی ہے حکومت: چندر شیکھر آزاد

20 ہزار اسکول بند کیے گئے، جبکہ 20 ہزار سے زیادہ شراب کی دکانیں کھولی…

3 hours ago

PM Awas Yojna: جام نگر کے مستحقین نے کہا- پکے مکان کا خواب وزیر اعظم مودی نے کیا پورا

گجرات کے جام نگر میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد بتا رہے ہیں…

4 hours ago

Delhi Pollution: دہلی میں آلودگی کے خلاف پابندیاں: یکم نومبر سے ان گاڑیوں کے داخلے پر روک

سردیوں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے یکم نومبر سے دہلی…

4 hours ago