اسرائیل کے وزیراعظم بنجامین نتن یاہو نے صدر آئزک ہرزوگ سے صدراتی معافی کے لیے رسمی درخواست دائر کی ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث گرم ہو گئی ہے کہ آیا نتن یاہو اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔
نتن یاہو کی درخواست کی تفصیلات
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نتن یاہو کی یہ درخواست 111 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی متعدد سطحوں پر تفصیلی جانچ ہوگی۔ وزارت انصاف، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور صدر کے دفتر کی جانب سے اس درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔ درخواست کے بعد یہ فائل پینشن ڈپارٹمنٹ میں منتقل کی جائے گی، جہاں سے جیل سروس، اسرائیلی پولیس، اسٹیٹ اٹارنی آفس، ویلفیئر اور میڈیکل اتھارٹیز اور انفورسمنٹ اینڈ کلیکشن اتھارٹی سے تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی۔
عدالتی اور قانونی عمل
عدالتی عمل کے مطابق، وزیر انصاف کو امریکی معافی ڈپارٹمنٹ کی رائے موصول ہوگی، جس کے بعد وزیر انصاف اپنی سفارشات صدر کے دفتر بھیجیں گے۔ اگر کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے، تو حکومت کسی دوسرے وزارت کو معاملہ سنبھالنے کے لیے مقرر کرے گی۔ صدر کے دفتر میں فائل قانونی شعبے کو بھیجی جاتی ہے، جہاں اس کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد صدر کے قانونی مشیر کو پیش کی جاتی ہے۔ قانونی مشیر فائل کا جائزہ لینے کے بعد غیر جانبدارانہ رائے تیار کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے مزید معلومات بھی حاصل کر سکتا ہے۔
صدر کی منظوری یا ردعمل
اگر صدر معافی کی درخواست منظور کرتے ہیں، تو وہ صدراتی معافی پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ دستاویز کسی ملزم کو معافی، سزا میں کمی یا بخشش کی قانونی حیثیت دیتی ہے اور اس پر وزارت انصاف کے کسی وزیر کے دستخط بھی ہوتے ہیں۔ اگر درخواست منظور نہیں ہوتی تو صدر کی جانب سے ایک نوٹس کے ذریعے درخواست گزار کو مطلع کیا جاتا ہے۔
نتن یاہو پر الزامات اور قانونی پیچیدگیاں
نتن یاہو پر تین سنگین کرپشن الزامات ہیں۔ اسرائیل کے قانون کے مطابق معافی تب دی جاتی ہے جب ملزم قصوروار ثابت ہو جائے۔ تاہم، نتن یاہو پر ابھی قصوروار ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا، لیکن انہوں نے پہلے ہی صدر سے معافی کی درخواست کر دی ہے۔ عدلیہ نے پہلے کہا تھا کہ معافی کی درخواست سے پہلے گناہ تسلیم کرنا ضروری ہے، لیکن نتن یاہو نے ایسا نہیں کیا۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے یہ وضاحت کی کہ صدر عوامی مفاد یا انتہائی خاص حالات میں قصوروار ہونے سے پہلے بھی کسی کو معافی دے سکتے ہیں، اسی وجہ سے وزیراعظم نے پیشگی معافی کی درخواست کی ہے۔
امکانات اور سیاسی اثرات
اگر نتن یاہو قصوروار ثابت ہو جاتے ہیں، تو انہیں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ 2020 میں بھی نتن یاہو پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے، جن میں امیر معاونین سے تحائف لے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ شامل تھا۔ اس تازہ ترین درخواست کے بعد اسرائیل میں قانونی اور سیاسی مبصرین کی نظریں صدر اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والے فیصلے پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف نتن یاہو کی سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیلی سیاست کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…
ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے رِگ وید کا مقدس منتر شیئر کرتے ہوئے گناہوں سے…
پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور…