نئی دہلی :سوئٹزرلینڈ میں اتوار 21 جون 2026 کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان پر ایرانی وفد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کچھ وقت کے لیے مذاکراتی کمرے سے باہر چلے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت ہوئی اور ملاقات کا مجموعی نتیجہ مثبت رہا۔مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جب کہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔
اہم معاملات پر بات چیت
یہ مذاکرات حالیہ عبوری معاہدے کے بعد شروع ہوئے، جس کا مقصد گزشتہ چار ماہ سے جاری کشیدگی اور تنازع کو کم کرنا ہے۔ دونوں ممالک ایک وسیع اور مستقل معاہدے کی جانب بھی پیش رفت کرنا چاہتے ہیں، جس میں ایران کا جوہری پروگرام اور خطے سے متعلق دیگر اہم تنازعات شامل ہیں۔مذاکرات سے قبل ایران نے واضح کر دیا تھا کہ بات چیت اسی صورت میں آگے بڑھے گی جب امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔ ایران نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر لبنان میں جاری تنازع ختم نہ ہوا تو دیگر معاملات پر پیش رفت مشکل ہو جائے گی۔
پہلے دور کی بات چیت 80 منٹ جاری رہی
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور تقریباً 80 منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران جنگ بندی، امریکی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک تقریباً تیار ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ قطر کی ثالثی سے منجمد فنڈز کی واپسی کے مختلف امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
ٹرمپ کے بیان پر مذاکرات میں تلخی
مذاکرات کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ لبنان میں اپنے اتحادی گروہوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی وفد نے سخت اعتراض کیا اور احتجاجاً کچھ وقت کے لیے مذاکراتی اجلاس چھوڑ کر باہر چلا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد کا یہ اقدام امریکی صدر کے بیان کے خلاف احتجاج تھا۔
ایران کا سخت ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات انتہائی احتیاط سے دینے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ماحول کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے حساس مذاکرات میں کشیدگی کا پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل آسان نہیں ہوتا، تاہم امریکہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔
مستقل معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش
اگرچہ پہلے دور کے دوران بعض مواقع پر تلخی دیکھنے میں آئی، لیکن دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے اور اہم معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بات چیت مستقبل میں ایک بڑے اور دیرپا معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…