بین الاقوامی

US-Iran Peace Talks: امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت، اسلام آباد میں مذاکرات کا دن مقرر

امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں ایک بارپھرتیزہوگئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے کے آخرمیں پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، پیر(20 اپریل) کواسلام آباد میں اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ تاہم امریکہ نے ابھی تک ان مذاکرات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کوکم کرنے کے لئے ازسرنوسفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ترکی میں منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران، اہم علاقائی لیڈران نے کشیدگی کوکم کرنے پربات چیت کی۔ قطرکے امیرشیخ تمیم بن حمد الثانی اورترکیہ کے صدررجب طیب اردغان نے پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی کشیدگی کوکم کرنے اورسفارتی حل کوآگے بڑھانے کے لئے بین الاقوامی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، قطرکے امیری دیوان نے کہا کہ “امیراور ترکی کے صدرنے اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کوششوں کوسراہا اوروزیراعظم کی کوششوں کی حمایت کا اظہارکیا”۔

پاکستانی فوج نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرسے کی ملاقات

اس درمیان، امریکہ-ایران مذاکرات کودوبارہ شروع کرنے کے لئے سفارتی کوششیں تیزہورہی ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے جمعرات (16 اپریل) کوتہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقرقالیباف سے ملاقات کی۔ عاصم منیرکا دورہ امریکہ اورایران کے درمیان بات چیت میں اضافہ کے درمیان ہوا ہے۔ پاکستانی حکام خاص طورپرتہران کے جوہری پروگرام پرکسی پیش رفت کی امید کررہے ہیں۔ بدھ کے روزتہران پہنچے عاصم منیرکا استقبال ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ اس دورہ کا مقصد پہلے دورکی بات چیت کے ناکام رہنے کے بعد ممکنہ دوسرے دورکی بات چیت کے لئے زمین تیار کرنا ہے۔

پہلے ہوئی مذاکرات رہی ناکام

دراصل، گزشتہ 12-11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوئی امن مذاکرات میں امریکہ اورایران کے درمیان 39 دنوں سے چل رہی کشیدگی کوختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حالانکہ یہ بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پرنہیں پہنچ سکی تھی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہوئی یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی میٹنگ آمنے سامنے کی مذاکرات تھی۔

اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان جنگ بندی

اس درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اورایران حامی حزب اللہ کے درمیان 10 دنوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جسے وسیع ترکشیدگی میں کمی کی جانب ممکنہ قدم کے طورپر دیکھا جا رہا  ہے۔ یہ جنگ بندی اسرائیل اورلبنان کی سرحد پربڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے، جہاں خطے میں امریکہ-ایران جنگ کے بعد سے اسرائیلی مسلح افواج اورحزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

1 hour ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

2 hours ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

3 hours ago