بین الاقوامی

US, China suspend part of their tariffs for 90 days: امریکہ اور چین کے درمیان اپنے محصولات کا کچھ حصہ 90 دنوں کے لیے معطل کرنے پراتفاق،عالمی منڈی میں رونق کے آثار

امریکہ اور چین نے اپنی جاری تجارت جنگ میں 90 دن کے لیے جزوی طور پر ٹیرف معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی منڈیوں کے لیے ایک ممکنہ پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے دو روزہ مذاکرات کے بعد، جو سوئٹزرلینڈ میں ہوئے، ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکہ نے چینی درآمدات پر 145 فیصد سے ٹیرف گھٹا کر 30 فیصد کر دیا، جبکہ چین نے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد سے ٹیرف کم کر کے 10 فیصد کر دیا۔ یہ معطلی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی کشیدگی کو کم کرنے اور مزید مذاکرات کے لیے ایک نئے فریم ورک کے قیام کی کوشش ہے، جیسا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو “عظیم ترقی” قرار دیتے ہوئے اسے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر “ٹیرف کے حوالے سے مکمل ری سیٹ” کی طرف ایک قدم بتایا۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ معطلی عارضی ہے اور بنیادی تجارتی تنازعات ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ چین کے وزارت تجارت نے کہا کہ وہ اس مدت کے دوران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس نے زور دیا کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ “مساوات اور باہمی احترام” پر مبنی ہونا چاہیے۔ عالمی منڈیوں نے اس اعلان پر مثبت ردعمل دکھایا، کیونکہ سرمایہ کار طویل مدتی تجارت جنگ کے اثرات سے بچنے کی امید کر رہے ہیں۔

اس معاہدے کے باوجود، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت محض ایک عارضی وقفہ ہو سکتی ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان تجارت کا دو طرفہ حجم تقریباً 600 بلین ڈالر پر منجمد ہے، اور چین کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ 295 بلین ڈالر تک برقرار ہے۔ ایکس پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ مبصرین اسے مکمل معاہدے کے بجائے مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی قدم سمجھتے ہیں۔ بیسنٹ نے کہا کہ دونوں فریقین مکمل معاشی انقطاع سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن اگر 90 دن کے اندر کوئی ٹھوس معاہدہ نہ ہوا تو ٹیرف دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔

دونوں ممالک آئندہ 90 دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ معطلی ایک پائیدار معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ چین نے اپنی معاشی حکمت عملی کو متنوع بنانے کے لیے ایشیا اور یورپ میں اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ الگ الگ معاہدوں پر توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ اس اعلان نے عالمی معاشی استحکام کے لیے کچھ امید پیدا کی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل عوامل اب بھی چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معطلی سے فوری ریلیف مل سکتا ہے، لیکن مستقل حل کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Gold-Silver Price: تہواروں کے موسم میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی، سونا 1.48 لاکھ اور چاندی 2.12 لاکھ روپے سے کر گئی تجاوز

تہواروں اور شادیوں کے موسم میں صرافہ بازار میں قیمتی دھاتوں کے داموںمیں اضافہ ہو…

1 hour ago

Bollywood Actors Firing Attacks: صرف ٹائیگر شروف ہی نہیں، ان اداکاروں کے گھروں پر بھی ہو چکی ہے فائرنگ، دیکھیں پوری فہرست

بالی ووڈ ستاروں پر حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا…

3 hours ago

Ecuador Church Accident Priest Cross Falls: چرچ میں دعائیہ اجتماع کے دوران صلیب گرنے سے پادری کی دردناک موت، دل دہلا دینے والا ویڈیو وائرل

ایکواڈور کے شہر گوایاکل میں پرپیتوو سوکورو چرچ میں دعائیہ اجتماع کے دوران دیوار پر…

4 hours ago