ریاض: سعودی عرب نے اتوار کے روز ایران کی صورتحال، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اور خطے میں تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا: “مملکت سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ ایران میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں، بالخصوص امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔” یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قابل مذمت
سعودی وزارت خارجہ نے 13 جون 2025 کو جاری اپنے سابقہ بیان کو دہراتے ہوئے کہا: “مملکت اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتی ہے جس میں اس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت اور مخالفت کی تھی۔ مملکت اس بات پر زور دیتی ہے کہ تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں، کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں، اور مزید بگاڑ سے گریز کریں۔”
بین الاقوامی برادری اس نازک وقت میں اپنی کوششیں تیز کرے
سعودی عرب نے پرامن اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: “مملکت بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس نازک وقت میں اپنی کوششیں تیز کرے تاکہ اس بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے، جو خطے میں امن و استحکام کے ایک نئے باب کا آغاز کرے۔”
فردو کو ایران کا مرکزی یورینیم افزودگی مرکز سمجھا جاتا ہے
یاد رہے کہ اتوار کی صبح، امریکی افواج نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز — نطنز، اصفہان، اور فردو — پر فضائی حملے کیے۔ ان میں فردو کو ایران کا مرکزی یورینیم افزودگی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جاتا ہے۔
امریکی حملے میں بموں کا مکمل ذخیرہ استعمال کیا گیا
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے نارتھروپ گرومن کمپنی کے تیار کردہ B-2 اسپرٹ بمبار طیاروں کے ذریعے GBU-57 A/B ” بنکر بسٹر” بم (جنہیں “Massive Ordnance Penetrators” یا MOP بھی کہا جاتا ہے) فردو پر برسائے۔ ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ حملے میں بموں کا مکمل ذخیرہ استعمال کیا گیا۔ ان حملوں کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو سخت پیغام دیا: “اب یا تو امن ہوگا یا ایران کے لیے ایسا المیہ جو ہم نے گزشتہ آٹھ دنوں میں بھی نہیں دیکھا۔” یہ بیان ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے دیا گیا۔
ایران کے مغربی علاقوں میں فوجی اہداف پر حملوں کا آغاز
دریں اثنا، اسرائیلی فضائیہ (IAF) نے بھی ایران کے مغربی علاقوں میں فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیوں کی ایک اور لہر شروع کر دی ہے۔ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں اسرائیلی شہری زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے اپنے بیان میں کہا: “اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے مغربی علاقوں میں فوجی اہداف پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ آج صبح IAF نے ان لانچرز کو بھی نشانہ بنایا جو اسرائیلی علاقوں کی طرف میزائل داغنے کے لیے تیار تھے، اور ایرانی مسلح افواج کے فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان لانچرز کو فوری طور پر ناکارہ بنا دیا گیا جنہوں نے حالیہ میزائل حملے کیے تھے۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل پیر کے روز…