امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے یوکرین کی حمایت بند کرنے کی دھمکیوں نے پوتن کو مزید جارحانہ کارروائیوں کے لیے تقویت دی ہے۔ وہیں یوکرین کو خدشہ ہے کہ اگر وہ اپنے سب سے اہم حمایتی کی حمایت کھو دیتا ہے تو اسے ایک ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا جو روس کے حق میں زیادہ ہوگا۔ واضح رہے کہ ولادیمیر زیلنسکی کو ہٹا کر ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کا مطالبہ یوکرین میں روس کی حامی حکومت کی پوتن کی دیرینہ خواہش کے مطابق ہے۔
پوتن نے آرکٹک فورم پر کہا کہ ’’یقیناً ہم امریکہ کے ساتھ، یہاں تک کہ یورپی ممالک کے ساتھ اور اپنے شراکت داروں اور دوستوں کے ساتھ، اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یوکرین میں عبوری انتظامیہ کے قیام کے امکان پر بات کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ ایسا اس لیے چاہتے ہیں تاکہ یوکرین میں ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہو جو عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور پھر ان کے حکام کے ساتھ روس امن معاہدے پر بات چیت کرے۔
واضح رہے کہ مئی 2024 میں زیلنسکی کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے کے بعد سے روس یوکرین کے صدر کی حیثیت سے ان کی اہلیت پر بار بار سوال اٹھاتا رہا ہے۔ تاہم یوکرینی قانون کے تحت مارشل لا اور جنگی کارروائیوں کے دوران انتخابات کو معطل کر دیا جاتا ہے۔ وہیں یوکرین میں زیلنسکی کے مخالفین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ تنازعہ ختم ہونے تک انتخابات نہیں کرائے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…
بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…
مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…