بین الاقوامی

US Congress over action against Iran: امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف کارروائی پر ناراضگی، جنگی اختیارات اور فوجی تعیناتی پر اختلافات شدید

واشنگٹن: امریکہ میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور زمینی فوج بھیجنے کے خدشے پر کانگریس کے اندر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سینئر امریکی رہنماؤں نے بڑھتے خطرات، واضح مقاصد اور کانگریس کی پیشگی منظوری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ہزاروں مزید امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچ رہے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کا ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹرز کی سخت مخالفت

ڈیموکریٹک سینیٹر اینڈی کم نے ایران میں مزید فوجی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کو حالیہ دنوں کا ایک نہایت اہم موڑ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو ایران میں زمینی فوج نہیں بھیجنی چاہیے کیونکہ یہ ایک نہایت خطرناک اقدام ہوگا۔ انہوں نے مشن کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے اور مزید امریکی فوجیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اینڈی کم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ فوجی مہم کے اختتام کے لیے کوئی واضح خاکہ موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے بدلتے ہوئے اہداف کانگریس کے ارکان میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں اور جنگی حکمتِ عملی غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔

ریپبلکن قیادت کا حکومتی اقدام کا دفاع

دوسری جانب ریپبلکن رہنماؤں نے حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔ ہاؤس میجورٹی لیڈر اسٹیو اسکیلس نے کہا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے پیدا ہونے والے خطرات کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہی اصل خطرہ ہے جسے ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقدامات کر رہے ہیں، اور آپریشن اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے۔  اگرچہ ریپبلکن قیادت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، لیکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ کانگریس رکن نینسی میس نے زور دیا کہ فوجی تعیناتی کا کوئی بھی فیصلہ کانگریس کی منظوری سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے انسانی جانوں کے ممکنہ نقصان پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں بھیجے جانے والے امریکی نوجوانوں کے مستقبل پر اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔

کانگریس کی نگرانی کا مطالبہ

ڈیموکریٹک رکن کانگریس سہاس سبرامنیم نے بھی مطالبہ کیا کہ صدر کو خاص طور پر زمینی فوج بھیجنے کے معاملے پر کانگریس سے رجوع کرنا چاہیے۔ کانگریس کے اندر جاری یہ اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کے ایران کے حوالے سے مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ اس میں یہ سوال شامل ہے کہ آیا ہدف ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے، میزائل نظام کو نشانہ بنانا ہے یا حکومت کی تبدیلی مقصود ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

1 hour ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

2 hours ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

2 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

3 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

3 hours ago