نیپال میں حکومت نے سخت احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کر دی ہے، جو 4 ستمبر سے نافذ تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پیر کے روز کرپشن اور اظہارِ رائے پر قدغنوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کم از کم 19 افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ یہ مظاہرین حکومت سے بدعنوانی کے خاتمے اور سوشل میڈیا پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پیر کی شام ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک بیان جاری کیا، جس میں پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اولی نے مظاہرین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ’’درانداز عناصر‘‘ کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حکومت کے ترجمان اور وزیرِ اطلاعات پرتھوی سبھا گرونگ نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔‘‘
سوشل میڈیا پر پابندی ختم ہونے کے بعد منگل کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب اور ایکس تک رسائی بحال کر دی گئی۔ حکومت نے پابندی کو جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا جواز بنایا تھا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے سنسرشپ کی کوشش قرار دیا۔ اس پابندی کے خلاف مظاہروں کی قیادت نوجوانوں کی تنظیم ’’جنریشن زی نیپال‘‘ کر رہی تھی۔ احتجاج کے دوران کھٹمنڈو میں کم از کم 17 اور مشرقی شہر اٹاہری میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس نے پارلیمنٹ میں داخلے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
کئی ممالک نے مظاہرین کی اموات پر کیا تشویش کا اظہار
آسٹریلیا، فن لینڈ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ کی سفارتی مشنز نے ایک مشترکہ بیان میں ان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بیان میں پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کی حمایت پر زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے نیپال کی جمہوری روایت اور متحرک سول سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ نوجوانوں کے خدشات کو سننے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…