بین الاقوامی

Nepal Communal Violence: نیپال میں خونریز کھیل، انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ فسادات، حالات ایک بار پھر کشیدہ

نیپال میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد نے ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل بھارتی سرحد سے متصل علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے فسادات نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ خطے کی سلامتی سے وابستہ اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک متنازع ٹک ٹاک ویڈیو اس تشدد کی بنیادی وجہ بنی، جس کے بعد حالات تیزی سے بگڑتے چلے گئے۔ نیپال میں سال 2025 کی جین زی تحریک اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ملک میں استحکام آئے گا، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ بھارتی سرحد رکسول سے ملحقہ بیرگنج اور دھنوشا ضلع میں دو برادریوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بیرگنج کے متعدد علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جسے فی الحال 6 جنوری تک بڑھا دیا گیا ہے۔

ادھر بھارت نیپال سرحد پر بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ شرپسند عناصر سرحد پار نہ کر سکیں۔ حکام کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر ایک مخصوص برادری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ اس ویڈیو کے ردعمل میں مشتعل افراد نے دھنوشا کے دھنوکمالا میونسپلٹی کے سکھوا مارن علاقے میں واقع ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگانے کی کوشش کی، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر قرآن پاک کی بے حرمتی سے متعلق دعووں والی ویڈیوز بھی گردش کرنے لگیں، جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کے جواب میں مسلم برادری کے افراد نے بیرگنج سمیت مدھیش علاقے کے مختلف حصوں میں شدید احتجاج شروع کر دیا۔ دھنوشا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ بشو راج کھڑکا نے تصدیق کی ہے کہ متنازع ویڈیو بنانے والے نوجوانوں اور مسجد میں توڑ پھوڑ کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔

مسجد واقعے کے خلاف بیرگنج شہر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں اور شدید نعرے بازی کی۔ پولیس نے جب مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو اس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ صورت حال قابو سے باہر ہوتی دیکھ کر پرسا ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر کرفیو نافذ کیا، جو شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیپال اس وقت عدم استحکام کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پانچ مارچ 2026 کو متوقع عام انتخابات کے پیش نظر اس قسم کے فرقہ وارانہ واقعات کو نہایت حساس سمجھا جا رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض عناصر انتخابی فائدے کے لیے سماجی تقسیم کو ہوا دے سکتے ہیں۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کرفیو میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

4 minutes ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

1 hour ago