بین الاقوامی

Artificial Intelligence: آسٹریلیا کے معروف اسکول میں درجنوں طلبہ پر امتحانی بے ضابطگی کا الزام، امتحان میں اے آئی کے استعمال پر نمبروں میں کٹوتی

میلبورن: آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے ایک معروف اسکول میں بارہویں جماعت کے طلبہ کو امتحان کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد سزا کے طور پر ان کے نمبروں میں کٹوتی کر دی گئی۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق، ملگریو میں واقع مازینوڈ کالج کے متعدد طلبہ نے انگریزی کے زبانی امتحان (English Oral Examination) کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال کیا۔ اخبار دی ایج کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 طلبہ اس بے ضابطگی میں ملوث ہو سکتے ہیں، تاہم اسکول انتظامیہ نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اے یو کے مطابق، معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ اساتذہ کو معلوم ہوا کہ بعض طلبہ نے اپنی تقریری پیشکش (Oral Presentation) تیار کرنے کے لیے اے آئی کی مدد لی تھی، جس کے بعد ان کے حاصل کردہ نمبروں میں کمی کر دی گئی۔

تعلیمی رینکنگ پر پڑ سکتا ہے براہِ راست اثر

آسٹریلیا میں یہ اسائنمنٹ بارہویں جماعت کے انگریزی مضمون کی یونٹ-4 امتحان کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے مجموعی طور پر 20 نمبر مختص ہوتے ہیں۔ طلبہ کو کسی سماجی، سیاسی یا عصری موضوع پر تین سے پانچ منٹ کی تقریر تیار کرکے اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس امتحان میں حاصل ہونے والے نمبر طلبہ کے اسٹڈی اسکور میں شامل کیے جاتے ہیں، جو بعد میں ان کی آسٹریلین ٹرشری ایڈمیشن رینک (ATAR) کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی رینک کی بنیاد پر یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے دیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امتحانات میں اے آئی کے استعمال سے جانچ کے عمل کی شفافیت اور طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں، اسی لیے اسے ایک سنگین تعلیمی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔

اسکول انتظامیہ نے تحقیقات کے بعد کارروائی کی

مازینوڈ کالج کے پرنسپل پال شینن نے اپنے بیان میں کہا کہ بارہویں جماعت کے انگریزی زبانی امتحان کے جائزے کے دوران بعض طلبہ کی جانب سے اے آئی ٹولز کے استعمال کے اشارے ملے تھے۔ اس کے بعد معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی گئیں اور متعلقہ طلبہ سے گفتگو بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی نتائج سے متعلق تمام ضروری ضابطوں پر عمل کیا گیا اور معاملے کی اطلاع Victorian Curriculum and Assessment Authority (VCAA) کو بھی دی گئی۔ تحقیقات کے بعد جن طلبہ کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوئی، ان کے نمبروں میں مناسب کٹوتی کی گئی۔ پرنسپل کے مطابق تعلیمی اداروں میں اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال ایک نئی اور سنجیدہ چیلنج کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانات اور تعلیمی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی مدد کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے دیانت داری اور مساوات متاثر ہوتی ہے۔ وی سی اے اے کی ہدایات کے مطابق کسی بھی تعلیمی جانچ میں جنریٹو اے آئی کا استعمال تعلیمی دیانت داری کے اصولوں کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے اور ایسے معاملات کی تحقیقات اسکول کی پالیسیوں اور تادیبی ضابطوں کے تحت کی جانی چاہئیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Chennai Visit: وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ چنئی کی تیاریوں کے پیش نظر 15 ہزار پولیس اہلکار تعینات

وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر شہر کی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی جانچ…

8 hours ago

China Open: چائنا اوپن، بارٹونکووا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچیں اینڈریوا، عالمی نمبر 3 رینکنگ یقینی

کامیابی کے بعد اینڈریوا نے میڈیا سے کہا، ’’میں فائنل میں پہنچ کر بہت خوش…

8 hours ago

Umrao Jaan: ریکھا نے ’امراؤ جان‘ کے لیے کیوں نہیں لی تھی فیس؟ ہدایت کار مظفر علی نے سنایا دلچسپ قصہ

1981 میں ریلیز ہونے والی فلم میں ریکھا نے امراؤ جان کے کردار کو اپنی…

8 hours ago