سعودی عرب کے مفتی اعظم اورسینئرعلما کونسل کے سربراہ شیخ عبدالعزیزآل الشیخ انتقال کرگئے۔ اس امرکا اعلان شاہی عدالت نے منگل کے روزکیا۔ ان کی نمازجنازہ آج بعد نمازظہرریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ سال 1999 میں شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کومتفی اعظم کے عہدے پرتعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے مملکت میں اعلیٰ ترین مذہبی اسکالرکے طورپرخدمات انجام دیں، شریعت کی تشریح اورقانونی اورمعاشرتی امورپرفتوے جاری کیے۔
امت مسلمہ کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں مفتی اعظم
مفتی اعظم کا عہدہ سعودی عرب میں سب سے بلند مذہبی عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شخص ملک کی دینی پالیسیوں، اسلامی قانون اورشریعت کے اطلاق میں مرکزی کردارادا کرتا ہے۔ مفتی اعظم کے فتوے نہ صرف سعودی شہریوں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں اوروہ عالمی سطح پراسلامی تعلیمات کے تحفظ اورفروغ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ شیخ عبدالعزیزآل الشیخ کے انتقال سے سعودی عرب اورعالم اسلام میں ایک نمایاں مذہبی شخصیت کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار رنج وغم
پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پررنج والم کا اظہارکیا ہے۔ منگل کے روزپاکستانی وزیراعظم کے دفترسے جاری بیان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ مفتی اعظم کی وفات نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ غم ہے۔
مریم نواز نے مفتی اعظم کے انتقال پرافسوس کا اظہارکیا
پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ’’میں مرحوم کے اہلِ خانہ، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پوری سعودی قیادت وعوام سے دلی تعزیت کا اظہارکرتا ہوں۔‘‘ پاکستان میں پنجاب صوبہ کی وزیراعلیٰ اورسابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نوازشریف نے بھی سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ کے انتقال پراظہارِافسوس کیا۔