بین الاقوامی

Strategic Failure of America: ’’اسٹریٹیجک ناکامی‘‘ کی جانب بڑھا رہا ہے امریکہ، سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جنگ کے بجائے سفارتکاری پر دیا زور

واشنگٹن: امریکہ کے سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ فوجی کامیابیاں مستقبل میں امریکہ کے لیے ایک بڑی ’’اسٹریٹیجک ناکامی‘‘ کا سبب بن سکتی ہیں، اور موجودہ صورتحال میں طاقت کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی قائم ہے۔ سی این این کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کو محض وقتی کامیابی سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کے دور رس نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ امریکہ نے بعض فوجی اہداف حاصل کیے ہیں، لیکن ایران کی بنیادی صلاحیتیں اب بھی برقرار ہیں، جو مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اب بھی اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم، جدید سینٹری فیوجز اور میزائل سسٹمز موجود ہیں، جو کسی بھی ممکنہ معاہدے یا تنازع میں اسے مضبوط پوزیشن دیتے ہیں۔ بلنکن نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر وقتی کامیابی حاصل بھی ہو جائے تو آخرکار ہمارے پاس کیا بچے گا؟‘‘

آبنائے ہرمز: ایران کی اسٹریٹیجک برتری

بلنکن نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی اس اہم آبی گزرگاہ پر گرفت ایک بڑا اسٹریٹیجک فائدہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ وہ عنصر ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، کیونکہ تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایران کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور امریکہ کو عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ اس صورتحال میں بلنکن نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اب دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو تنازع کو مزید بڑھایا جائے یا سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ جنگ کا آغاز ’’بہت مہنگا اور خطرناک‘‘ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اسے آخری آپشن کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

سفارتکاری ہی واحد راستہ

بلنکن نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق، ہر معاہدہ سمجھوتے پر مبنی ہوتا ہے اور دونوں فریقین کو کچھ نہ کچھ رعایت دینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آپ کہاں تک جھک سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ 2015 کا جوہری معاہدہ بھی طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد ممکن ہوا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سفارتکاری وقت طلب ضرور ہے، لیکن یہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

ایران کے اندرونی حالات اور مذاکرات کی پیچیدگی

بلنکن نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ایران ایک یکساں سوچ رکھنے والا ملک نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف نظریات اور طاقت کے مراکز موجود ہیں، جو مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’’انتہائی تجربہ کار اور سخت حریف‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ معاہدہ قریب پہنچ کر بھی طویل عرصے تک التوا کا شکار رہتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔ آخر میں بلنکن نے امریکی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جلد بازی میں کوئی بڑا فیصلہ نہ کرے بلکہ ’’اسٹریٹیجک صبر‘‘ کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صبر اور سفارتکاری کے ذریعے ہی بڑے تنازعات کا حل ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ نے اس موقع پر غلط قدم اٹھایا تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کو جاری رکھا جائے اور کسی جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Iran Executes Spying Person: اسرائیل کو خفیہ معلومات بھیجنے والا جاسوس گرفتار، ایران نے دی پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…

45 minutes ago

Lalan Singh JDU Prabodhan Programme: جنتا دل یونائیٹڈ کے پروگرام میں غیر حاضری پر لالن سنگھ کی وضاحت، کہا ’میں گجرات میں تھا‘

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…

2 hours ago

Education Standards in Europe: یورپ میں تعلیم کا گرتا معیار، ’پیسا‘ کے نتائج نے بڑھائی تشویش

فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…

2 hours ago

Emotional Manu Bhaker: ’مجھے جسپال رانا سر کی بہت یاد آئی‘، ایشین گیمز 2026 کی افتتاحی تقریب کے بعد جذباتی ہوئیں منو بھاکر

ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…

2 hours ago