اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو۔ (فائل فوٹو)
اسرائیل-ایران کے درمیان جاری کشیدگی ہر روز مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل کو کھلی حمایت حاصل ہے۔ وہیں روس نے ایران کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مسلسل ایران پر حملے کر رہا ہے۔ ان سب کے درمیان اب یوروپی یونین کے ایک فیصلے سے اسرائیل کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسا اس لئے کیونکہ 9 یوروپی ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے کا مسودی تیارکیا ہے۔
9 یوروپی یونین کے ممالک نے یوروپی کمیشن سے مغربی کنارے پراسرائیلی بستیوں کے ساتھ یوروپی یونین کی تجارت کو ختم کرنے کے طریقے پر تجویز لانے کی بات کہی ہے۔ ان ممالک میں بیلجیم، فن لینڈ، آئرلینڈ، لکزمبرگ، پولینڈ، پرتگال، سلووینیا، اسپین اورسویڈن شامل ہیں۔ ان کے وزرائے خارجہ نے اس تجویزپردستخط کردیئے ہیں۔
یوروپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جو اس کے لئے کل سامان کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔ بلاک اوراسرائیل کے درمیان دوطرفہ اشیا کی تجارت گزشتہ سال 42.6 بلین یورو (48.91 بلین ڈالر) تھا، حالانکہ یہ واضح نہیں تھا کہ اس تجارت میں سے کتنی آبادیاں شامل ہیں۔
فلسطین کے علاقے پراسرائیل کو قبضہ کرنا پڑگیا بھاری
یوروپی یونین کے ان 9 ممالک نے کہا کہ فلسطینی علاقوں اور وہاں کی بستیوں پر اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ریاستوں کو ایسے تجارت یا سرمایہ کاری سے متعلق تعلقات کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا چاہئے، جو صورتحال کو بنائے رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ مطلب واضح ہے کہ فلسطین پر قبضہ اب اسرائیل کو بھاری پڑنے والا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق، ان بستیوں کوغیرقانونی تصورکیا جاتا ہے۔ یہودی بستیوں کی توسیع سے فلسطینیوں کی زندگی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ بستیوں کوعام طورپرامن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ فلسطینی سرزمین کے تسلسل میں خلل ڈالتے ہیں۔ تقریباً 700,000 اسرائیلی بستیوں میں رہتے ہیں، جن میں سے 200 سے زیادہ مغربی کنارے کے ارد گرد بکھرے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…