بین الاقوامی

Donald Trump Warn to Iran: ’ایران کو چھوڑنا ہی ہوگا نیوکلیئر پروگرام، سرینڈر سے کم کچھ بھی منظورنہیں‘، جی-7 سمٹ چھوڑکر امریکہ پہنچے ٹرمپ کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو سخت وارننگ

کناڈا سے جی-7 سمٹ چھوڑکر واشنگٹن آئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاربنانے کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اورایران تنازعہ کا حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لیے بہترہوگا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل (17 جون، 2025) کے روز کہا کہ وہ ایران-اسرائیل کے درمیان جاری جدوجہد میں اضافہ کے بعد سیز فائر سے بھی کچھ بہتر چاہتے ہیں۔ انہوں نے ان رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے جلدی واپس واشنگٹن آگئے تھے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کہا، ”سیدھی بات ہے کہ ایران جوہری ہتھیارنہیں بنا سکتا ہے۔ اسے اس موضوع پرسرینڈرکرنا ہی ہوگا، اس سے کم کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔“ اسرائیل نے پانچ دنوں تک میزائل حملوں کے ذریعہ ایران کوکافی نقصان پہنچایا ہے اوراس کا ماننا ہے کہ اب وہ تہران کے نیوکلیئرپروگرام کومستقل طور پرتباہ کرسکتا ہے۔

انہوں نے وارننگ دی ہے کہ اگرایران نے مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں امریکی فوجیوں پرحملہ کیا تو امریکہ تیار ہے۔ گزشتہ 5 دنوں سے اسرائیل اورایران کے درمیان جدوجہد جاری ہے۔ ایران نے منگل کے روزتل ابیب میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹرپر ہوائی حملہ کیا۔ وہیں ملٹری انٹلی جنس سے متعلق خفیہ ایجنسی AMAN  کی عمارت کوبھی نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے اب مغربی تہران پرحملے شروع کردیئے ہیں۔ اسرائیلی ہوائی حملے میں ایران کے ٹاپ فوجی افسرمیجرجنرل علی شادمانی کی موت ہوگئی۔ علی شادمانی ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرس یعنی فوجی آپریشن کمان کے سربراہ تھے۔ انہوں نے 4 دن پہلے ہی یہ عہدہ سنبھالا تھا اور وہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے بہت قریبی تھے۔

ٹرمپ نے ایران کو دی وارننگ

ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے لوگوں سے تہران کوخالی کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہے اگر ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر راضی ہوتا توموجودہ بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل ڈیڈ لاک تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، تنازعہ مزید بڑھنے کا خطرہ رہے گا۔

جی-7 ممالک نے کی اسرائیل کی حمایت

جی-7 ممالک کے لیڈران نے مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں امن اوراستحکام کے لئے اپنی حمایت اسرائیل کودی ہے۔ اس سے ایران کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جی-7 ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو خود کی حفاظت کرنے کا پورا اختیارہے اورہم اس کے ساتھ ہیں۔ سربراہی اجلاس سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جی-7 کے لیڈران نے بھی ایران کوعلاقائی عدم استحکام اوردہشت گردی کی بڑی وجہ قراردیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago