جنگ بندی ہوتے ہی ایران نے موساد کے خلاف بڑا قدم اٹھایا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب بے حد خطرناک موڑ پرپہنچ گئی ہے۔ میزائلوں کی بارش، شہروں میں دھماکے اور اب خفیہ ایجنسیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں ایران کی طرف سے کیا گیا تازہ ترین دعویٰ دنیا کو حیران کرنے والا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آرجی سی) نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے فوجی خفیہ محکمہ اور موساد کے ایک آپریشن سینٹر کو برباد کردیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، آئی آرجی سی نے منگل کو ایک میزائل اسٹرائیک کے ذریعہ اسرائیل کی سب سے طاقتور ایجنسی موساد کے آپریشنل اڈے کو اڑا دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اسرائیلی ملٹری انٹلی جنسل ڈائریکٹوریٹ پر بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی جنگ کے درمیان اسرائیل کو کمزور کرنے اور اس کی خفیہ طاقت کو تباہ کرنے کے مقصد سے کی گئی۔
تل ابیب میں ہوئی تھی کارروائی
ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل حملہ تل ابیب میں کیا گیا، جہاں موساد کا ایک اہم سینٹرموجود تھا۔ اس حملے سے متعلق اسرائیل کی طرف سے کوئی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور تصاویر میں تل ابیب میں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ ایران نے اسے ’جوابی کارروائی‘ بتایا ہے۔
اسرائیل کی خاموشی سے دنیا پریشان
اسرائیل کی طرف سے فی الحال اس حملے پرکوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔ تاہم سیکورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرموساد پر حملہ کامیاب رہا ہے تو یہ اسرائیل کی خفیہ صلاحیتوں کے لئے بڑا جھٹکا ہوسکتا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ممالک اس صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کئی ممالک نے دونوں ممالک سے محتاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو دی وارننگ
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے لوگوں سے تہران کوخالی کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہے اگر ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر راضی ہوتا توموجودہ بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل ڈیڈ لاک تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، تنازعہ مزید بڑھنے کا خطرہ رہے گا۔
جی-7 ممالک نے کی اسرائیل کی حمایت
جی-7 ممالک کے لیڈران نے مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں امن اوراستحکام کے لئے اپنی حمایت اسرائیل کودی ہے۔ اس سے ایران کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جی-7 ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو خود کی حفاظت کرنے کا پورا اختیارہے اورہم اس کے ساتھ ہیں۔ سربراہی اجلاس سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جی-7 کے لیڈران نے بھی ایران کوعلاقائی عدم استحکام اوردہشت گردی کی بڑی وجہ قراردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہارٹ اٹیک کی علامات اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں۔ ان میں سینے میں درد یا دباؤ،…
شبھمن گل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں 110 رنز کی…
انتہائی سنگین صورتحال کے باوجود کیپٹن اسمت مچھّار نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے طیارے…
نروپم نے کہا کہ اگر ملک کو محفوظ رکھنا ہے اور تمام شہریوں کی سلامتی…
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ…
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…