امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع سوشل میڈیا بیان کے بعد ملک میں سیاسی ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسٹر کے موقع پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اور غیر معمولی زبان استعمال کی، جس کے بعد امریکی قانون سازوں نے ان کے خلاف 25ویں آئینی ترمیم نافذ کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ یہ بیان ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ایران کو ہرمز آبنائے کھولنے یا سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ اس بیان کو نہ صرف غیر سفارتی بلکہ خطرناک بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
قانون سازوں کا ردعمل اور سخت تنقید
امریکی کانگریس کے کئی ارکان نے صدر کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو فوری طور پر آئینی ماہرین سے 25ویں ترمیم کے نفاذ پر مشورہ لیتے۔ اسی طرح یاسمین انصاری نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’25ویں ترمیم کسی وجہ سے موجود ہے‘‘ جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ وہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ہیں۔ میلانی اسٹینسبری سمیت دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی صدر کی ذہنی حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ معروف صحافی اور سابق ٹی وی میزبان مہدی حسن نے کہا کہ صدر کا بیان اس حد تک غیر معمولی ہے کہ نائب صدر اور کابینہ کو سنجیدگی سے 25ویں ترمیم پر غور کرنا چاہیے۔ سابق وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن ڈائریکٹر انتھونی اسکاراموچی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بانیانِ امریکہ نے ایسے ہی حالات کے لیے یہ آئینی راستہ فراہم کیا تھا تاکہ کسی نااہل صدر کو ہٹایا جا سکے۔ اسی طرح سابق رکن کانگریس جو والش نے بھی ٹرمپ کے بیان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔
25ویں ترمیم کیا ہے؟
امریکہ کے آئین کی 25ویں ترمیم ایک ایسا قانونی طریقہ کار فراہم کرتی ہے جس کے تحت اگر صدر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت انہیں عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں نائب صدر عبوری طور پر صدر کے اختیارات سنبھال لیتے ہیں۔ یہ ترمیم خاص طور پر ہنگامی حالات کے لیے بنائی گئی ہے، جب صدر کی جسمانی یا ذہنی حالت حکومتی امور پر اثر انداز ہو رہی ہو۔
بین الاقوامی تناؤ اور بڑھتی ہوئی تشویش
ٹرمپ کے حالیہ بیان کو ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات عالمی سطح پر عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ 25ویں ترمیم کا نفاذ ایک پیچیدہ اور غیر معمولی عمل ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس پر کھل کر بحث ہونا خود اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی سیاست ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مجموعی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ مطالبات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا واقعی 25ویں ترمیم کے نفاذ کی جانب کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…