قومی

Oath in Rajya Sabha: راجیہ سبھا میں 19 اراکین پارلیمنٹ کی حلف برداری، شرد پوار، رام داس اٹھاولے سمیت کئی سینئر لیڈروں کی واپسی

بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں پیر کے روز ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں کل 19 نو منتخب اور دوبارہ منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لیا۔ یہ اراکین مختلف ریاستوں مہاراشٹر، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور اڈیشہ سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں۔ اس موقع پر راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے تمام اراکین کو حلف دلایا۔ تقریب میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، قبائلی امور کے وزیر جوال اورام، راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

سینئر لیڈروں کی واپسی اور اہم شخصیات کی شمولیت

حلف اٹھانے والوں میں کئی سینئر اور معروف سیاسی شخصیات شامل تھیں، جن میں شرد پوار، رام داس اٹھاولے، ایم تھمبیدورئی اور تروچی شیوا قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام رہنما ایک بار پھر راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں، جس سے ان کے سیاسی تجربے اور اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ دیگر اراکین میں مایا چنتامن ایوناتے، رام راؤ سکھارام وڈکُٹے، جیوتی ناگناتھ واگھمارے، کرسٹوفر منیکم، انبومنی رامدوس، کونسٹانڈن رویندرن، ایل کے سدھیش، بابل سپریو برال، مینکا گرو سوامی، راجیو کمار، رکمنی ملک، بسوجیت سنہا، سنترپت مشرا، دلیپ کمار رے اور منموہن سامَل شامل ہیں۔

مختلف زبانوں میں حلف، ثقافتی تنوع کی جھلک

اس تقریب کی ایک خاص بات یہ رہی کہ اراکین نے مختلف زبانوں میں حلف لیا، جو بھارت کی لسانی اور ثقافتی تنوع کی بہترین مثال ہے۔ تین اراکین نے مراٹھی، دو نے ہندی، چھ نے تمل، ایک نے انگریزی، چار نے بنگالی اور تین اراکین نے اوڑیا زبان میں حلف یا اقرار کیا۔ ریاستی نمائندگی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مہاراشٹر سے پانچ، تمل ناڈو سے چھ، مغربی بنگال سے پانچ اور اڈیشہ سے تین اراکین نے حلف برداری کی۔ اس طرح ایوان میں مختلف خطوں اور ثقافتوں کی نمائندگی مزید مضبوط ہوئی ہے۔

جمہوری عمل میں حلف برداری کی اہمیت

راجیہ سبھا کے نئے اراکین کی حلف برداری جمہوری نظام کا ایک نہایت اہم مرحلہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ اراکین پارلیمانی کارروائی میں باضابطہ طور پر حصہ لینے کے اہل ہو جاتے ہیں اور قانون سازی، پالیسی سازی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تجربہ کار رہنماؤں کی واپسی سے ایوان کی کارکردگی میں استحکام آئے گا، جبکہ نئے اراکین کی شمولیت تازہ خیالات اور توانائی کا اضافہ کرے گی۔

پارلیمانی نظام میں مضبوطی کی جانب ایک قدم

یہ حلف برداری نہ صرف آئینی روایت کی تکمیل ہے بلکہ اس سے ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں، زبانوں اور سیاسی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اراکین کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملک کے ہر طبقے کی آواز پارلیمنٹ میں سنی جائے۔ اسی کے ساتھ اب یہ تمام اراکین ملک کے اہم قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے عوامی مفادات کے تحفظ اور ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

MLC Election 2026: ایم ایل سی انتخابات، یوپی، بہار سمیت 4 ریاستوں میں ووٹنگ، 27 اکتوبر کو نتائج کا اعلان

نئی دہلی : اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی 28…

7 minutes ago

Jio IPO Last Day: جیو آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آج آخری دن، لسٹنگ پر کتنے منافع کی امید؟

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے آئی پی او میں بولی لگانے کی آخری تاریخ 23…

1 hour ago

Wings Over Ganga Air Show: کاشی کے آسمان پر رافیل اور سخوئی کی گھن گرج، ونگز اوور گنگا‘ ایئر شو میں فضائیہ کے کرتب نے کیا مسحور

فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…

2 hours ago

Role Models: چین میں مشہور شخصیات کے بجائے سائنس دانوں کے پوسٹر، تاکہ بچے انہیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں

ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…

3 hours ago