بین الاقوامی

Kamala Harris Washington Post: واشنگٹن پوسٹ کے کملا ہیرس کو نظر انداز کرنے پر کھڑا ہوا تنازع، بیزوس نے کہا کہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں

امریکہ میں صدارتی انتخابات 5 نومبر کو ہونے والے ہیں۔ ایک طرف ڈیموکریٹس کی کملا ہیرس میدان میں ہیں، تو دوسری طرف ری پبلکن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں ہیں۔ دونوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور ان کی حمایت کرنے والے کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اسی دوران صدارتی انتخاب سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق جیف بیزوس کے اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں بھارتی نژاد ڈیموکریٹ رہنما کملا ہیرس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مضمون میں صدارتی انتخاب کی امیدوار کملا ہیرس کو نظر انداز کرنے پر تنازع کھڑا ہوا ۔جس کے بعد اب ایمیزون کے بانی بیزوس نے وضاحت دی ہے۔

کسی کی حمایت نہ کرنا درست اقدام ہے: بیزوس

پیر کی رات دیر گئے شائع ہونے والے ایک مضمون کے ذریعے، واشنگٹن پوسٹ کے مالک جیف بیزوس نے کہا کہ کسی بھی  ایک سیاسی جماعت کی حمایت نہ کرنا واشنگٹن پوسٹ کے لیے درست اقدام ہے۔ اخبار کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ ایمیزون کے بانی نے اسے زیادہ آزاد اور معروضی صحافت(Objective journalism) کی طرف ایک قدم قرار دیا۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ  واشنگٹن پوسٹ کے سی ای او ول لیوس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یہ اشاعت 1988 کے بعد پہلی بار صدارتی امیدوار حمایت  نہیں کرے گی۔ آئندہ انتخابات کے لیے ایسا کرنا چھوڑ دے گا۔ این پی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق  اندرونی معاملات(Internal Affairs) کی معلومات رکھنے والے اخبار کے دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے این پی آر کی ایک رپورٹ  کے مطابق  لیوس اس اقدام کے بعد 200,000 سے زیادہ لوگوں نے اخبار کی رکنیت منسوخ کر دی ہے۔

بیزوس نے کہا، ‘صدر کی حمایت کا انتخاب کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑتا

بیزوس نے کہا، ‘صدر کی حمایت کا انتخاب کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پنسلوانیا میں کوئی ووٹر یہ نہیں کہے گا کہ میں اخبار کی حمایت  کے ساتھ جا رہا ہوں۔ لیکن ہاں صدر کی حمایت کرنا درحقیقت طرف داری کا تاثر پیدا کرتا ہے۔ انہیں ختم کرنا ایک اصولی فیصلہ ہے اور یہ درست ہے۔ 1933 سے 1946 تک واشنگٹن پوسٹ کے پبلشر یوجین میئر نے بھی ایسا ہی سوچا تھا اور وہ درست تھے۔’

کوئی سیاسی فیصلہ نہیں: اخبار مالک

ایمیزون کے بانی نے کہا، ‘کاش ہم نے یہ تبدیلی انتخابات اور اس سے جڑے جذبات سے کچھ وقت پہلے کی ہوتی۔’ انہوں نے تسلیم کیا کہ وقت ناکافی تھا، لیکن اس سے انکار کیا کہ یہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ تھا۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

5 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

6 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

6 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

7 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago