انٹرٹینمنٹ

Actor Naseeruddin Shah: لومڑی کہلانے کے بجائے کتا کہلانا پسند کروں گی، نصیرالدین شاہ کے تبصرے پر کنگنا رناوت کا جوابی حملہ

نئی دہلی : بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے معروف اداکار نصیرالدین شاہ کے ایک پرانے تبصرے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان پر جوابی حملہ کیا ہے۔ طلبہ تحریکوں کے معاملے پر بالی ووڈ کی خاموشی کو لے کر جاری بحث کے درمیان کنگنا نے نصیرالدین شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی ملک سے وفاداری پر بھی سوال اٹھایا۔کنگنا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک خبر شیئر کی، جس میں اداکار پیوش مشرا کے نصیرالدین شاہ سے متعلق حالیہ بیان کا ذکر تھا۔ اسی خبر میں نصیرالدین شاہ کے اس پرانے تبصرے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا، جس میں انہوں نے بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر ’منہ میں ہڈی دبائے کتے‘ کی مثال دی تھی۔ کنگنا نے اسی خبر کو شیئر کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ کو نشانہ بنایا۔

کنگنا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ سچ یہ ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی کا وفادار ہوتا ہے، لیکن انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ جس گھر یعنی ملک کا کھانا کھاتی ہیں، اسی کی حفاظت کرتی ہیں اور اس کے لیے لڑتی ہیں۔ انہوں نے نصیرالدین شاہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھاتے تو اس ملک کا ہیں، لیکن لڑتے پڑوسی ملک کے لیے ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں کسی شخص کو ’کتا‘ کہنا بھی ایک طرح کی تعریف ہے، کیونکہ وفاداری اور معصومیت اب بہت کم نظر آتی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ نصیرالدین شاہ جیسے ’لومڑی‘ بننے کے بجائے کتا کہلانا پسند کریں گی۔کنگنا کا یہ بیان نصیرالدین شاہ کے اس تبصرے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں جاری احتجاج اور طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ موجودہ حالات میں فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات کھل کر اپنی رائے کیوں ظاہر نہیں کرتیں۔اس سوال کے جواب میں نصیرالدین شاہ نے بالی ووڈ کی ان شخصیات کی خاموشی کو ایک مثال سے بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب کسی کتے کے منہ میں ہڈی ہو تو وہ بھونک نہیں سکتا۔ ان کے مطابق جب وہ ہڈی منہ سے گر جائے گی یا دانت ٹوٹ جائیں گے تو وہ بھونک سکیں گے۔ ان کا اشارہ مبینہ طور پر ان فنکاروں کی طرف تھا جو اپنے مفادات یا کام کے باعث سیاسی اور سماجی معاملات پر خاموش رہتے ہیں۔

نصیرالدین شاہ کے اس بیان پر اداکار پیوش مشرا نے بھی سخت ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن(جے پی ایس سی) سے متعلق مطالبات کو لے کر رانچی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کی اور نصیرالدین شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کچھ لوگوں کے منہ میں ہڈیاں ہونے کی وجہ سے وہ نہیں بول سکتے تو اس وقت کس کے منہ میں ہڈی ہے؟ پیوش مشرا نے طنزیہ انداز میں یہ بھی سوال کیا کہ کیا خاموشی کی وجہ پیزا اور برگر کی طلب تھی یا پھر اس ہجوم کا حصہ ہونا تھا جسے وہ کسی خاص نظریے سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے نصیرالدین شاہ سے کہا کہ اب انہیں ان سے خوف محسوس نہیں ہوتا۔نصیرالدین شاہ کے بیان کے بعد پیوش مشرا اور کنگنا رناوت کے ردعمل نے طلبہ احتجاج، بالی ووڈ کی سیاسی و سماجی ذمہ داری اور فنکاروں کی خاموشی کو لے کر جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

25 seconds ago

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…

2 hours ago

UPITS 2026: یو پی آئی ٹی ایس 2026، 25 ستمبر سے گریٹر نوئیڈا میں سجے گا اتر پردیش کا بڑا تجارتی میلہ، وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے افتتاح

پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…

3 hours ago