انٹرٹینمنٹ

Film Manihar: پروموشن کے لیے لکھنؤ پہنچی ‘منیہار’ کی اسٹار کاسٹ، اپنے کرداروں سے اٹھایا پردہ

لکھنؤ: سوشل کامیڈی فلم ‘منیہار’ کافی چرچاؤں میں ہے۔ فلم کی اسٹار کاسٹ پروموشن کے لیے اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ پہنچی اور لوگوں سے فلم دیکھنے کو کہا۔ فلم کو جئے شری مووی پروڈکشن نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اداکار بدرالاسلام اور اداکارہ روشنی رستوگی نے کہانی اور اپنے اپنے کرداروں کے بارے میں بات کی۔

اداکار بدرالاسلام نے کہا کہ فلم کی کہانی کافی سادہ ہے۔ یہ ایک منیہار کی کہانی ہے، جو گاؤں گاؤں چوڑیاں بیچتا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، اس کی ملاقات ساوتری نامی لڑکی سے ہوتی ہے، جس سے اسے پیار ہو جاتا ہے۔ بعد میں اسے اس کی آنکھوں میں دقت پیدا ہو جاتی ہے۔

’’جب وہ گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، تو وہ اسے بتاتا ہے کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی ہے۔ پھر وہ شہر کے ایک سرکاری اسپتال جاتا ہے، جہاں ڈاکٹر اسے بتاتے ہیں کہ اس کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ فلم میں انہیں ساوتری کے بھائی سے شادی کے لیے کشتی لڑنی ہے کیونکہ شادی جیتنے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔

کردار نبھاتے ہوئے درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے بدرالاسلام نے کہا کہ میں ایک گاؤں سے ہوں، میں نے کھیتی باڑی، ہل چلانے وغیرہ کا کام کیا ہے۔ اس لیے مجھے اپنا کردار ادا کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لیکن اندھے پن کی اداکاری چیلنجنگ تھی۔ اس میں کئی باریکیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اداکارہ روشنی رستوگی نے ساوتری کے کردار کے بارے میں کہا کہ فلم میں میرا کردار ایک سادہ دیہاتی لڑکی کا ہے۔ گاؤں میں رہنے کی وجہ سے وہ اپنے خوابوں کو پرواز نہیں دے پا رہی ہے۔ اسے ایک جیون ساتھی کی ضرورت ہے جو اس کے خوابوں کو سمجھے۔ اسی دوران، منیہار اس کی زندگی میں آتا ہے، جس سے اسے پیار ہو جاتا ہے۔ جب گھر والوں کو منیہار کے رات کے اندھے پن کا علم ہوا تو وہ اس شادی کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، “رات کے اندھے پن میں مبتلا ہونے کے باوجود، وہ نہ تو منیہار کو چھوڑتی ہے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف جاتی ہے۔ یہ منیہار اور ساوتری کی ایک بہت ہی خوبصورت محبت کی کہانی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ میں شروع سے ہی شہر میں رہ رہی ہوں، زندگی میں کبھی گاؤں نہیں گئی۔ لیکن جب میں فلم کی شوٹنگ کے لیے گاؤں گئی تو مجھے یہ بہت پسند آیا۔ وہاں موجود ہر شخص مجھے ایک خاندان لگتا تھا۔ میں اپنے کردار میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ مجھے لگا کہ میں حقیقی زندگی میں بھی ساوتری ہوں۔ یہ فلم 14 جون کو سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

1 hour ago

Ind vs NZ Vaibhav Suryavanshi: ’یہ ویبھو پروٹیسٹ کر رہا ہے!’ پلیئنگ الیون سے باہر ہونے پر اکشر پٹیل نے لی چٹکی، ویڈیو وائرل

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…

2 hours ago

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

2 hours ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

2 hours ago

Dr Priti Adani to Address The World Symposium: وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد، ڈاکٹر پریتی اڈانی کریں گی خطاب

بین الاقوامی اجلاس میں دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے، مصنوعی…

2 hours ago