Uncategorized

Arvind Kejriwal on Jantar Mantar Protest: اپنے ہی بچوں پر لاٹھی چارج کیوں؟ کیجریوال کی مرکز سے اپیل، نیٹ پیپر لیک کے خلاف پارلیمنٹ مارچ کے دوران حکومت پر اٹھائے سوال

نئی دہلی : نیٹ پیپر لیک اور امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات سنے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والے اپنے ہی ملک کے بچوں پر لاٹھی چارج کیوں کیا جا رہا ہے۔ سی جے پی کی جانب سے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک نکالے گئے مارچ کے دوران ہزاروں مظاہرین نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا،

جس کے بعد سیاسی ردعمل بھی تیز ہو گیا۔اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے “غرور” کو چھوڑ کر نوجوانوں کی بات سننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے لاکھوں نوجوان جنتر منتر پر جمع ہوئے ہیں، لیکن ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ احتجاج کے مقام کے اطراف انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف جانے سے روکا جا رہا ہے۔

کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، “یہ ہمارے ہی ملک کے بچے ہیں، جو انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد اور انا کو ترک کرے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات سنے۔”پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور طلبہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے کئی سینئر رہنما سی جے پی کے احتجاج میں یکجہتی کے اظہار کے لیے شریک ہوئے۔ ان میں دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ بھی شامل تھے۔

پیر کے روز ہزاروں مظاہرین وسطی دہلی میں جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ نیٹ پیپر لیک اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا یہ احتجاج سماجی کارکن سونم وانگچک کے غیر معینہ مدت کے انشن کے بعد مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔واضح رہے کہ اتوار کو منیش سسودیا نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک نکالے گئے مارچ میں شامل ہوں اور نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام کی شفافیت بحال کرنے اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

5 hours ago