دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے اچانک شدت اختیارکرلی۔ نیٹ پیپرلیک معاملے پرشروع ہونے والا یہ مظاہرہ اس وقت مزید گرم ہوگیا، جب مظاہرین جنترمنترسے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے لگے۔پولیس نے مظاہرین کوپارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا گیا اوراپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی حکومت کوگھیرا۔ دہلی میں جنترمنتر سے لے کرپارلیمنٹ تک کافی گہما گہمی کا ماحول ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنان اوراسٹوڈنٹس نے آج جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ اس دوران مظاہرین اورپولیس کے درمیان دھکا مکی اورنوک جھونک بھی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران پولیس نے مظاہرین پرلاٹھی چارج کردیا، جس کے بعد حالات کافی خراب ہوگئے۔ سی جے پی کے کارکنان اوراسٹوڈنٹس پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ وہیں پولیس انہیں روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہرسکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اورہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکارتعینات کئے گئے ہیں۔ پولیس کی لاٹھی چارج کے بعد سماجوادی پارٹی کے کئی لیڈران اوراراکین پارلیمنٹ بھی طلبا کی حمایت میں آگئے ہیں۔ وہیں راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے درمیان بھی اس پورے معاملے پربات ہوئی ہے۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، ٹی ایم سی، آرجے ڈی سمیت کچھ دیگر پارٹیاں سی جے پی کارکنان اوراسٹوڈنٹس کے ساتھ کھڑی نظرآرہی ہیں۔
اسی دوران ایک بڑی سیاسی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ ایک طرف مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان ہوم منسٹرامت شاہ سے ملاقات کی اوراس پورے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ وہیں سی جے پی کے لیڈران نے بی جے پی کے سابق صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اورآشوتوش رانکا نے جے پی نڈا سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آگے بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ تقریباً دو گھنٹے انتظار کے بعد انہیں نڈا سے 10 منٹ ملاقات کا موقع ملا اورانہوں نے اپنی تمام مطالبات تحریری طورپرمرکزی وزیرکوسونپ دیئے۔سوربھ داس نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے پارٹی لیڈرابھیجیت دیپکے کوحراست میں لے لیا ہے اورپُرامن مظاہرین کے ساتھ سختی برتی جا رہی ہے۔ حالانکہ کچھ دیرکے بعد سی جے پی نے اپڈیٹ دیا کہ ابھیجیت دیپکے حراست میں نہیں ہیں۔ جنتر منتر پر مظاہرین کی بھیڑمسلسل بڑھ رہی ہے۔ پولیس بھیڑ کو ہٹانے کے لئے کئی بار لاٹھی چارج کرچکی ہے، لیکن مظاہرین ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
دوسری جانب، کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن سسٹم یا تعلیم کے نظام میں موجود مسائل پرسنجیدہ بحث ہونی چاہئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت اسٹوڈنٹس پرآنسوگیس کیوں استعمال کررہی ہے اوران کے ساتھ سختی کیوں کی جا رہی ہے۔اس احتجاج کے درمیان ایک اور اہم خبرسامنے آئی۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنا بھوک ہڑتال ختم کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اسپتال میں زیرِ علاج سماجی لیڈر سونم وانگچک کی اپیل پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ دیپکے نے پارلیمنٹ مارچ میں شامل ہونے سے پہلے جوس پی کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔ آپ کو بتا دیں کہ سونم وانگچک 28 جون سے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پرہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیٹ-یو جی پیپرلیک معاملے میں مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان استعفیٰ دیں اورملک کے تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پراصلاحات کی جائیں۔ آج کے پارلیمنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہوئے اوردہلی کا جنترمنترایک بارپھرسیاسی سرگرمیوں کا مرکزبنا رہا۔ اب سب کی نظریں حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا یہ احتجاج بات چیت سے ختم ہوگا یا آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گا۔ پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسٹوڈٹنس اور سی جے پی کے کارکنان پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اب حکومت کو ہی اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ لیکن ابھی حکومت کی سخت تنقید کی جارہی ہے اور لوگوں میں ایک مایوسی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…