لکھنؤ سپر جائنٹس نے چوٹ کی وجہ سے آئی پی ایل کے 18 ویں سیزن سے باہر ہونے والے گیندباز محسن خان کے متبادل کے طور پر شاردل ٹھاکر کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ واضح رہے کہ شاردل ٹھاکر آئی پی ایل 2025 کی نیلامی کے دوران کوئی خریدار نہیں ملا تھا اور وہ unsold رہ گئے تھے۔ اس کے بعد شاردل کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے جانے والے تھے، لیکن اب وشاکھاپٹنم میں لکھنؤ کی ٹیم سے جا ملے ہیں۔ رشبھ پنت کی کپتانی میں لکھنؤ سپرجائٹنس اس سال ایک نیا آغاز کرنے جا رہی ہے اور اس کا پہلا مقابلہ 24 مار چ کو پنت کی سابق ٹیم دہلی کیپٹلز کے ہی خلاف ہے۔
شاردل ٹھاکر کو رجسٹرڈ دستیاب پلیئر پول (آر اے پی پی) سے ان کی 2 کروڑ کی بنیادی قیمت پر لکھنؤ نے اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ محسن خان، جو گھریلو کرکٹ میں اتر پردیش کی نمائندگی کرتے ہیں، 31 دسمبر کو وجے ہزارے ٹرافی کے ایک میچ میں زخمی ہو گئے تھے۔ انھیں دائیں گھٹنے میں چوٹ آئی ہے۔ محسن خان اس وقت بحالی سے گزر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مینک یادو، اویش خان اور آکاش دیپ بھی سپرجائنٹس کے لیے کھیلنے سے قاصر ہیں۔ یہ تینوں تیز گیندباز اس وقت بنگلورو میں بی سی سی آئی کے سینٹر آف ایکسی لینس کی نگرانی میں ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ شاردل ٹھاکر اس سے پہلے آئی پی ایل کی پانچ ٹیموں کا حصہ رہ چکے ہیں، جن میں چنئی سپرکنگس، دہلی کیپٹلز، کنگس الیون پنجاب، کولکاتا نائٹ رائیڈرز اور رائزنگ پونے سپرجائنٹس شامل ہیں۔ انھوں نے 95 میچ کھیلے ہیں اور 27.87 کی اوسط سے 67 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ شاردل ایک کارآمد بلے باز بھی ہیں اور آئی پی ایل میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 138.91 ہے۔ یہی وجہ ہے شاردل کو صرف ایک گیندباز نہیں بلکہ ایک کارآمد آل راؤنڈر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش،…
ریئلٹی شو ’رائز اینڈ فال‘ کے سیزن 2 میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب…
اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں…
اُجّین: مدھیہ پردیش کے اُجّین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک چوڑی کرنے…
نیپال کے پہاڑی اور ترائی علاقوں میں مسلسل بارش کے بعد بہار کے میدانی علاقوں…
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…