دائیں جانب مقتول سوربھ راجپوت جبکہ بائیں جانب مقتول کی اہلیہ مسکان اور اس کا عاشق ساحل۔
یوپی کے میرٹھ میں نیوی کے سابق ملازم سوربھ راجپوت کے بہیمانہ قتل نے سب کو حیران کردیا ہے۔ یہ قتل انتہائی سفاکیت کے ساتھ کیا گیا تھا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی حیران کرنے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سوربھ راجپوت کے جسم پر بے ہوش کیے جانے کی کوئی علامت نہیں پائی گئی۔ اس کے سینے پر تین وار کیے گئے، اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں کو بے دردی سے کاٹا گیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس کی گردن دھڑ سے بالکل الگ تھی۔ سوربھ کی موت کی وجہ زیادہ خون بہنا اور صدمہ بتایا جاتا ہے، جو چاقو کے گہرے زخموں کی وجہ سے ہوا۔ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر بھی لاش دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔
جسم پر کئی گہرے زخم
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوربھ کی گردن پر گہرے زخم کے نشانات تھے۔ دائیں اور بائیں کان کے نیچے، جبڑے کے دونوں طرف اور گردن کے قریب کئی گہرے زخم پائے گئے۔ سب سے لرزہ خیز بات یہ تھی کہ اس کی گردن بالکل کٹی ہوئی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ بھی کلائی کے قریب سے کاٹے گئے تھے۔ دل کے قریب بھی گہرے زخم کے نشان تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سوربھ کو دو سے تین ہفتے قبل قتل کیا گیا تھا۔ جسم مکمل طور پر بوسیدہ تھا، چہرہ پھولا ہوا تھا، ایک آنکھ کھلی ہوئی تھی جبکہ دوسری بند تھی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے سیمنٹ میں لپیٹا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹھوڑی پر چوٹ کے نشانات اور گردن پر پھندے کے نشانات بھی ملے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل انتہائی بے دردی سے کیا گیا ہے۔
سوربھ قتل کیس میں مسکان اور ساحل کی محبت کی کہانی کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت عناصر، برین واشنگ اور گہری سازش کا حیران کرنے دینے والا زاویہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ساحل کو روحوں اور مافوق الفطرت طاقتوں پر گہرا یقین تھا اور مسکان نے اس یقین کا استعمال اسے اپنے ساتھ کرنے کے لیے کیا تھا۔
ساحل کو بتاتی تھی بھگوان شنکر اور خود کو پاروتی
مسکان ساحل کو بھگوان شنکر اور خود کو پاروتی کہتی تھی۔ اتنا ہی نہیں جب یہ دونوں ہماچل کی سیر کرنے گئے تو ان کے ساتھ موجود کیب ڈرائیور نے بھی اس کی اطلاع پولیس کو دی۔ کیب ڈرائیور عجب سنگھ نے بتایا کہ مسکان نے ساحل کی سالگرہ کے لیے منگوائے گئے کیک پر ‘شنکر’ نام لکھنے کو کہا تھا۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مسکان نے اپنی ماں اور بھائی کے نام پر دو جعلی اسنیپ چیٹ آئی ڈیز بنائی تھیں۔ وہ خود ان آئی ڈیز سے پیغامات بھیجتی تھی جس میں ساحل کی تعریف ہوتی تھی۔ بعد میں، ساحل کو یہی پیغام دکھا کر، اس نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس کے گھر والے ان کے رشتے سے متفق ہیں۔
بھائی کے نام سے جعلی آئی ڈی بنائی
یہی نہیں بلکہ مسکان اپنے بھائی کے نام سے بنائی گئی جعلی آئی ڈی سے کبھی کبھی پیغامات بھیجتی تھی کہ ساحل کی مرحومہ والدہ کی روح اس کے بھائی میں داخل ہو گئی ہے اور وہ اس کے ذریعے بات کر رہی ہے۔ ان پیغامات میں کہا جاتا تھا، “ساحل اور مسکان کی جوڑی شاندار ہے ، اور میں پرلوک میں بہت خوش ہوں۔” اس کیس کی سب سے حیران کرنےوالی بات یہ ہے کہ ایک میسج میں لکھا گیا تھا کہ اب سوربھ کا ودھ کردوٗ یعنی اسے ماردو۔اس کے بعد ساحل بھی سوربھ کے قتل کے منصوبے میں شامل ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق اس قتل کے مرکزی ملزمان مسکان اور ساحل منشیات کے عادی ہیں۔ قتل کے بعد مسکان اپنے عاشق ساحل کے ساتھ ہماچل پردیش چلی گئی۔ پہلے وہ منالی میں ٹھہرے، پھر کسولی گئے، جہاں وہ چھ دن تک ایک ہوٹل میں رہے۔ سیاحتی مقامات پر جانے کے بجائے وہ اپنا زیادہ وقت ہوٹل کے کمرے میں گزارتے تھے۔
یہ سفاکانہ قتل پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے اور کیس کی مختلف زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کئی زاویوں سے اس جرم کی اصل وجہ کی تفتیش کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یوکرین نے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق…
اتراکھنڈ میں ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔…
بینک یونینوں کے اعلان کے مطابق 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک ملازمین ملک…
نوئیڈا میں ایپل اسٹور کے باہر ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی…
ایس پی وشواجیت دیال کو مںجھوے ریت گھاٹ پر غیر قانونی کان کنی اور ریت…
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…