اسپورٹس

Kuldeep Yadav Career: کلدیپ یادو: ڈوبتے کیریئر سے شاندار واپسی تک، ایک چائنا مین گیند باز کی حوصلہ افزا کہانی

نئی دہلی: بھارتی کرکٹ میں کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ حوصلے، صبر اور خود پر یقین کی مثال بن جاتی ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر کلدیپ یادو کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جنہوں نے اپنے کیریئر کے سب سے مشکل دور سے نکل کر خود کو ایک بار پھر عالمی سطح پر منوایا۔ ایک وقت تھا جب یُجویندر چہل اور کلدیپ یادو کی جوڑی بھارتی ٹیم کی سب سے خطرناک اسپن جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ شائقین انہیں محبت سے ”کُلچا“ کہتے تھے۔ میدان میں یہ دونوں جب اکٹھے ہوتے تو مخالف بلے بازوں کے لیے رنز بنانا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس جوڑی نے بھارت کو کئی یادگار فتوحات دلائیں، لیکن آئی پی ایل 2019 کا ایک میچ کلدیپ کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

کولکاتا نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کرتے ہوئے رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف اس میچ میں معین علی نے ایک اوور میں کلدیپ پر بھرپور حملہ کیا۔ اگرچہ آخری گیند پر وکٹ ملی، مگر اس اوور نے کلدیپ کو ذہنی طور پر ہلا کر رکھ دیا۔ وہ لمحہ ان کے کیریئر کے زوال کی شروعات بن گیا۔ 2019 کے بعد کلدیپ کو محدود مواقع ملے۔ ون ڈے میں وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکے، ٹی20 میں انہیں تقریباً نظر انداز کر دیا گیا۔ 2020 میں کووِڈ وبا نے حالات مزید خراب کر دیے، جبکہ 2021 اور 2022 میں بھی وہ چند ہی میچ کھیل سکے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی 2019 سے 2022 کے درمیان انہیں صرف تین مقابلوں میں موقع ملا۔ یہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا سب سے مشکل دور تھا۔

مگر 2023 میں منظر بدل گیا۔ کلدیپ یادو نے خود کو نئے انداز میں پیش کیا، جسے شائقین نے ”کلدیپ یادو 2.0“ کا نام دیا۔ اس سال انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں 30 میچوں میں 49 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ٹی20 میں 9 میچوں میں 14 شکار کیے۔ اگلے دو برسوں میں بھی ان کی کارکردگی مسلسل بہتر ہوتی گئی۔

2024 اور 2025 میں کلدیپ نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انہوں نے 19 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں 12 وکٹیں لے کر بھارت کو کلین سویپ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی20 سیریز میں، اگرچہ بھارت سیریز ہار گیا، مگر کلدیپ نے دونوں میچوں میں چار چار وکٹیں لے کر اپنی صلاحیت ثابت کی۔ چوٹیں بھی ان کے راستے میں آئیں، گھٹنے اور کمر کی انجریز نے انہیں کئی سیریز سے دور رکھا، مگر کلدیپ نے ہمت نہیں ہاری۔ آج وہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں بھارت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن چکے ہیں۔ ان کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، صبر اور خود پر یقین کے ساتھ کوئی بھی کھلاڑی دوبارہ بلندی حاصل کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Tej Pratap tried to enter the house: تیج پرتاپ نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، پہلی بار سامنے آئیں انوشکا یادو، ڈانڈیا پروگرام میں پہنچیں بیٹی کے ساتھ

انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…

22 minutes ago

A Chill in the Air in Delhi-NCR: دہلی-این سی آر میں سردی نے دی دستک، درجۂ حرارت 6 ڈگری تک گرا، آج بھی ہوگی بارش؟

کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…

57 minutes ago

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

2 hours ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

11 hours ago