نئی دہلی: پاکستانی وکٹ کیپر-بیٹسمین سرفراز احمد نے اتوار کے روز بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جس کے ساتھ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ان کا شاندار کیریئر ختم ہو گیا۔
سرفراز احمد نے نومبر 2007 میں بین الاقوامی کرئیر کا آغاز کیا اور نومبر 2021 میں آخری بار پاکستان کی نمائندگی کی۔ 37 سالہ احمد نے پاکستان کے لیے 54 ٹیسٹ، 117 ون ڈے اور 61 ٹی20 میچز کھیلے۔ ان تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 6,164 رنز بنائے، جن میں چھ سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وکٹ کے پیچھے انہوں نے 315 کیچز پکڑے اور 56 اسٹمپنگ کیں۔ سرفراز نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جونیئر اور سینئر دونوں سطحوں پر آئی سی سی ٹائٹل جیتنے والے واحد کپتان ہیں۔
ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا، ’’پاکستان کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ 2006 میں انڈر-19 ٹیم کو عالمی ٹائٹل دلانے سے لے کر 2017 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنے تک، پاکستان کی جرسی میں ہر لمحہ میرے لیے خاص رہا۔ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، خاندان اور شائقین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے پورے کیریئر کے دوران میرا ساتھ دیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’تمام فارمیٹس میں پاکستان کی قیادت کرنا میرے لیے ایک خواب کے حقیقت بننے کے مترادف تھا۔ میں نے ہمیشہ بے خوف کرکٹ کھیلنے اور متحد ٹیم بنانے کی کوشش کی۔‘‘
سرفراز نے مجموعی طور پر 100 بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی قیادت کی۔ انہوں نے بطور کپتان 37 ٹی20، 50 ون ڈے اور 13 ٹیسٹ میچز میں ٹیم کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان ٹی20 رینکنگ میں ٹاپ پر پہنچا اور مسلسل 11 ٹی20 سیریز جیت کر عالمی ریکارڈ بنایا، جس میں ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف چھ ’کلین سویپ‘ شامل ہیں۔
کپتان کے طور پر ان کا سب سے یادگار لمحہ لندن کے ’دی اوول‘ اسٹیڈیم میں آیا، جب 2017 چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 180 رنز سے شکست دی۔ 2006 میں سری لنکا میں آئی سی سی انڈر-19 ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے ٹیم کی قیادت کی اور ٹائٹل جیتا۔
سرفراز کے نام ایک ٹیسٹ میچ میں 10 کیچز لینے کا پاکستانی ریکارڈ بھی ہے، جو انہوں نے 2019 میں جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنایا۔ وہ واحد پاکستانی وکٹ کیپر-بیٹسمین ہیں جنہوں نے لارڈز میں ون ڈے سنچری بنائی۔ ان کی کپتانی نے پاکستانی کرکٹ کی نئی نسل کے لیے بہترین نرسری کا کام کیا۔ بابراعظم، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، امام الحق، فہیم اشرف، فخر زمان اور شاداب خان جیسے کھلاڑی ان کے زیرِ قیادت بین الاقوامی کرئیر کی ابتدا میں ہی مکمل حمایت حاصل کرتے رہے۔
سرفراز نے کہا، ’’بابراعظم، شاہین آفریدی، حسن علی اور دیگر کھلاڑیوں کو میری کپتانی میں میچ ونر بنتے دیکھنا میری سب سے فخر انگیز کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنے سالوں تک مجھ پر اعتماد کیا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی کرکٹ ہمیشہ ان کے دل کے قریب رہی ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے اس کھیل کی حمایت کرتے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…