شعروشاعری

Jigar Moradabadi Poetry: اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

جگر مراد آبادی اردو شاعری کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو محض فنی اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، مگر اردو دنیا انہیں ان کے تخلص جگر کے ذریعے ہی جانتی اور پہچانتی ہے۔ وہ 6 اپریل 1890 کو مراد آباد، اترپردیش میں پیدا ہوئے اور 9 ستمبر 1960 کو گونڈہ میں وفات پا گئے۔

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگرمرادآبادیؔ

جگر کی شاعری میں تغزل، نغمگی، اور ترنم کا ایک دلنشین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی روایت کے پاسدار ضرور تھے، لیکن ان کی غزلوں میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا بھی محسوس ہوتا ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان نہایت نرم، سلیس اور پر اثر ہوتا تھا، جو دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔

ان کی شاعری کا مجموعہ شعلۂ طور اردو ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی تخلیقی گہرائی اور تاثیر کے اعتراف میں 1958 میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر نہ صرف ایک قادر الکلام شاعر تھے بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی، جن کے کئی شاگرد اردو دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے، جن میں راز مراد آبادی کا نام نمایاں ہے۔ جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ نے راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر کسا طنز، دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابیوں کا بھی کیا ذکر

اپنے خطاب میں امیت شاہ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے…

12 minutes ago

Construction & Demolition Work Ban: دہلی-این سی آر میں 5 سے 20 نومبر تک تعمیراتی اور انہدامی کاموں پر پابندی، جانیے کیا ہے وجہ

مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی سمیت پورے…

20 minutes ago

PM Modi will visit Brussels: دسمبر میں برسلز جاکر بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے پر دستخط کریں گے وزیراعظم مودی

معاہدے سے 2 ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل وسیع بازار تشکیل پانے کی امید،…

38 minutes ago