ہاتھرس واقعہ میں بڑا فیصلہ، ایک ملزم قصوروار، کورٹ نے تین ملزمین کو کیا بری
Hathras Gang Rape and Muder Case: ہاتھرس واقعہ میں کورٹ نے سنایا اہم فیصلہ۔ کورٹ نے ایک ملزم کو قصوروار قرار دیاہے ۔ جب کہ تین ملزمین کو بری کردیا ہے- ہاتھرس کے چندرپا علاقہ میں 14 ستمبر 2020 کو شیوڈول کاسٹ کی لڑکی کے ساتھ ہوئی درندگی اور موت کے معاملے پر کورٹ کا فیصلہ آیا ہے۔
ہاتھرس کے چندپا علاقہ کے ایک گائوں میں 14 ستمبر 2020 کو شیوڈل کاسٹ کی ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی تھی۔ گائوں کے ہی چار لڑکوں نے عصمت دری کرنے کے بعد اس لڑکی کا گلہ دبا کر قتل کرنے کی کوشش کی۔ 29 ستمبر 2020 میں اس لڑکی نے صفدرجنگ اسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔ پولیس نے لڑکی کے بیان پر چار ملزمین سندیپ، روی، رامو اور لوکش کو گرفتار کرلیا تھا۔
ہاتھرس کی مشہور بیٹی کیس میں 900 دن بعد فیصلہ آیا ہے۔ چار ملزمان میں سے ایک کو قصوروار پایا گیا ہے۔ باقی تین ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ مجرموں کو تھوڑی دیر میں سزا سنائی جائے گی۔ اس بیٹی کی طرف سے وکیل مہیپال سنگھ نموترا نے کہا کہ SC-ST عدالت نے 14 ستمبر 2020 کو ہاتھرس واقعہ میں ملزم سندیپ کو قصوروار پایا ہے۔
کیس کی جانچ سی بی آئی نے کی تھی۔ سی بی آئی نے چار ملزمان سندیپ، روی، رامو اور لاوکوش کے خلاف خصوصی جج (ایس سی-ایس ٹی ایکٹ) کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی نے سیکشن 302، 376 اے، 376 ڈی اور ایس سی-ایکٹ ایکٹ کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی نے 67 دن تک تفتیش کی۔
-بھارت ایکسپریس
ٹریفک پولیس کی جانب سے اضافی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات…
وزیردفاع نے کہا کہ آج ملک کے گھروں میں دیوالی کے جو چراغ روشن کیے…
جاپانی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے…
وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں 1991 کے لوک سبھا انتخابات کی یادیں شیئر…
وزیر اعظم نے سلامتی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا…
صدر آئزک ہرزوگ نے یاشر پارٹی کے رہنما کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپی،…