علاقائی

Two Accused Arrested for Duping Youth in Delhi: دہلی میں نوجوان سے ایک لاکھ روپے کی ٹھگی کے معاملے میں دو ملزمان گرفتار، اس طرح بناتے تھے لوگوں کو شکار

نئی دہلی: دہلی کے جنوب مغربی ضلع کے وسنت کنج علاقے میں پولیس نے دو ایسے شاطر ٹھگوں کو گرفتار کیا ہے جو لوگوں کو دھوکے میں لے کر ان سے پیسے اور موبائل فون ہتھیا لیتے تھے۔ دونوں ملزم پہلے لوگوں سے دوستی کا ڈرامہ کرتے، ان کا اعتماد جیتتے اور پھر چالاکی سے انہیں اپنا شکار بنا لیتے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان خاص طور پر باہر سے کام کرنے کے لیے آنے والے لوگوں کو نشانہ بناتے تھے۔ اس معاملے میں وسنت کنج نارتھ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان سورج اور ہنی کو گرفتار کر لیا ہے۔

پی سی آر کال سے سامنے آیا معاملہ

پولیس کے مطابق 16 فروری 2026 کو تھانے میں ایک پی سی آر کال موصول ہوئی تھی۔ کال کرنے والے نوجوان نے بتایا کہ مہیپال پور چوک کے قریب دو لڑکوں نے اسے دھمکا کر اس کا موبائل چھین لیا اور فرار ہو گئے۔ متاثرہ نوجوان پی ایس بوہرا، جو اصل میں اتراکھنڈ کے ضلع چمپاوَت کا رہنے والا ہے، دہلی کے مہیپال پور علاقے کے ایک ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ دوپہر تقریباً ایک بجے اپنے گاؤں جانے کے لیے بس پکڑنے مہیپال پور بس اسٹینڈ پہنچا تھا، جہاں اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔

اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کا جال

بات چیت کے دوران اس شخص نے کہا کہ اسے فوری طور پر 30 ہزار روپے کی ضرورت ہے اور وہ اس کے بدلے اتنی ہی رقم آن لائن ٹرانسفر کر دے گا۔ نوجوان اس کی باتوں میں آ گیا اور قریبی اے ٹی ایم سے رقم نکالنے چلا گیا۔ اس نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اے ٹی ایم سے 30 ہزار روپے نکال کر اس شخص کو دے دیے۔ اس کے بعد ملزم نے کہا کہ وہ رقم آن لائن ٹرانسفر کر رہا ہے اور ٹرانزیکشن دکھانے کے لیے موبائل نمبر دے دے۔ متاثرہ شخص نے بھروسہ کرتے ہوئے اپنا فون بھی اسے دے دیا۔

دونوں ملزمان فون لے کر فرار

ملزم نے فون لیتے ہی کہا کہ وہ اپنے ساتھی کو ٹرانزیکشن دکھا کر آتا ہے جو پاس ہی موٹر سائیکل پر کھڑا ہے۔ یہ کہہ کر وہ موقع سے فرار ہو گیا۔ جب تک متاثرہ نوجوان کو حقیقت کا اندازہ ہوا، دونوں ملزم موٹر سائیکل پر بیٹھ کر وہاں سے بھاگ چکے تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے دوست کے فون سے 112 نمبر پر کال کر کے پولیس کو پوری واردات کی اطلاع دی۔

اکاؤنٹ سے مزید رقم کی منتقلی

بعد میں جب اس نے اپنے بینک اکاؤنٹ کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے مزید 70 ہزار روپے بھی آن لائن منتقل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے بعد وسنت کنج نارتھ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

خصوصی پولیس ٹیم کی تشکیل

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم کی نگرانی انسپکٹر بلبیر سنگھ کر رہے تھے جبکہ ٹیم میں اے ایس آئی اشوک کوشک، ہیڈ کانسٹیبل گورو، ہیڈ کانسٹیبل سونو کمار اور کانسٹیبل متھن اور دنیش شامل تھے۔

تحقیقات کے بعد ملزمان گرفتار

پولیس نے سب سے پہلے اس یو پی آئی آئی ڈی کی معلومات حاصل کی جس میں رقم منتقل کی گئی تھی۔ اس کے بعد بینک اکاؤنٹ اور اس سے جڑے افراد کی تفصیلات نکالی گئیں۔ مختلف علاقوں میں جا کر پوچھ گچھ بھی کی گئی اور مسلسل تلاش کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

باہر کے لوگوں کو بناتے تھے شکار

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سورج اور ہنی کافی عرصے سے اسی طرح لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کا طریقہ کار بھی کافی چالاکی بھرا تھا۔ دونوں ملزم خاص طور پر مہیپال پور علاقے میں ایسے لوگوں کو تلاش کرتے تھے جو باہر کی ریاستوں سے دہلی میں کام کرنے آتے ہیں، جن میں اتراکھنڈ، نیپال اور شمال مشرقی ریاستوں کے لوگ شامل ہوتے تھے۔

بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کا طریقہ

ملزمان ان لوگوں سے ان کی زبان اور انداز میں بات کرتے تھے تاکہ جلد اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ اس کے بعد وہ خود کو مالی مشکل میں پھنسا ہوا ظاہر کر کے مدد مانگتے تھے۔ جب متاثرہ شخص اے ٹی ایم سے رقم نکالنے جاتا تھا تو ملزمان اس کا اے ٹی ایم پن غور سے دیکھ لیتے تھے۔ پھر نقد رقم لینے کے بعد وہ موبائل فون یہ کہہ کر لے لیتے تھے کہ وہ آن لائن ٹرانسفر دکھا رہے ہیں۔ اسی بہانے وہ فون لے کر فرار ہو جاتے تھے اور بعد میں موبائل اور اے ٹی ایم پن کی مدد سے متاثرہ کے بینک اکاؤنٹ سے مزید رقم آن لائن منتقل کر لیتے تھے۔

کلیدی ملزم سورج کا مجرمانہ ریکارڈ

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سورج کی عمر 34 سال ہے اور وہ پہلے بھی چوری اور دیگر جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف پہلے سے چھ مقدمات درج ہیں اور وہ شکورپور علاقے میں ایک چھوٹا چائنیز فوڈ اسٹال چلاتا ہے۔ دوسرا ملزم ہنی 20 سال کا ہے اور روہنی کے بیگم پور علاقے کا رہنے والا ہے۔ وہ مزدوری کرتا ہے۔

معاملے میں پولیس کی تحقیقات جاری

پولیس نے بتایا کہ دونوں کی گرفتاری سے دو دیگر ای ایف آئی آر کے معاملات بھی حل ہو گئے ہیں۔ فی الحال پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ملزمان نے اب تک کتنے لوگوں کو اسی طریقے سے اپنا شکار بنایا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

7 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

8 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

8 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

9 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago