قومی

یوپی کی یوگی حکومت کی مویشی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 35 ہزار سے زائد ملزمان بھیجے گئے جیل، یہاں جانئے مکمل تفصیل

لکھنؤ: یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلی کی قیادت میں اترپردیش حکومت نے گئوکشی، مویشی اسمگلنگ اورغیرقانونی ذبیحہ کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے سخت کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریاست بھرمیں گئوکشی سے متعلق اب تک 14 ہزار182 مقدمات درج کئے گئے ہیں، جن میں 35 ہزار924 ملزمین کوگرفتارکرکے جیل بھیجا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، گرفتارشدگان میں سے 13 ہزار793 ملزمین کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے، جبکہ 178 ملزمین پرقومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 14 ہزار305 مقدمات میں گینگسٹرایکٹ کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ گئوکشی صرف قانون ونظم کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی عقیدت اوردیہی معیشت سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ریاستی حکومت نے گئوکشی کومکمل طورپرروکنے کے مقصد سے 2020 میں اترپردیش گائے ذبیحہ کی روک تھام (ترمیمی) آرڈیننس نافذ کیا تھا، جس کے تحت اس جرم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا راستہ ہموارکیا گیا۔ حکومت کی کارروائیاں صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ معاشی سطح پربھی ملزمین کونشانہ بنایا گیا ہے۔ گینگسٹرایکٹ کی دفعہ 14 (1) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 83 کروڑ32 لاکھ روپئے مالیت کی جائیداد ضبط کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد جرائم سے حاصل کی گئی غیرقانونی دولت کوضبط کرکے منظم جرائم پیشہ عناصرکی مالی طاقت کو کمزورکرنا ہے۔ متعدد معاملات میں غیرقانونی کمائی سے خریدی گئی زمین، گاڑیاں اوردیگراملاک کوبھی ضبط کیا گیا ہے۔

قانون میں سخت دفعات
ماہرین کے مطابق، 2020 میں نافذ کئے گئے آرڈیننس کے تحت گئوکشی کے جرم پر10 سال تک سخت قید کی سزا مقررکی گئی ہے اور3 سے 5 لاکھ روپئے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ گائے کے اعضاء کونقصان پہنچانے کی صورت میں 7 سال قید اور3 لاکھ روپئے تک جرمانہ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

پولیس کی موثرحکمت عملی
ذرائع کے مطابق، گئوکشی اورمویشی اسمگلنگ پرقابوپانے کے لئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں خفیہ نگرانی، ضلع سطح کی ٹاسک فورس اورسرحدی علاقوں میں سخت چوکس نگرانی کے ذریعہ سرگرم نیٹ ورکس کوختم کرنے میں مصروف ہیں۔ حساس اضلاع میں رات کے وقت پولیس گشت بڑھا دیا گیا ہے اورمویشیوں کی نقل وحمل پرخصوصی نظررکھی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیرقانونی سلاٹرہاؤسزکے خلاف بھی مسلسل مہم چلائی جارہی ہے۔

سیاسی تناظرمیں اہمیت
قبل ازیں مہنت ابھیمکتیشوارانند سرسوتی کی جانب سے یہ الزام لگائے جانے کے بعد کہ ریاست میں گئوکشی پرقابونہیں پایا جا سکا۔ حکومت نے یہ تفصیلی ڈیٹا جاری کیا۔ یہ بات قابل غورہے کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل گائے کے تحفظ کا معاملہ ایک بارپھرسیاسی بحث کا مرکزبنا ہوا ہے۔ کچھ مذہبی تنظیموں کی جانب سے گائے کو”راشٹریہ ماتا” قراردینے کا مطالبہ بھی زورپکڑ رہا ہے۔ ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان سخت اقدامات کے نتیجے میں اترپردیش میں غیرقانونی مویشی ذبیحہ کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اورمنظم گروہوں کی سرگرمیوں پرمؤثرطریقے سے قابوپایا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

1 hour ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

2 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago