مدھیہ پردیش میں جان لیوا ’کولڈرف‘ کف سیرپ سے متعلق واردات میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ شریسن میڈیکلز کے مالک رنگناتھن کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی اُس دلخراش واقعے کے بعد ہوئی ہے، جس میں مبینہ طور پر ناخص کف سیرپ پینے سے 20 معصوم بچوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
کیسے ہوئی گرفتاری ؟
رنگناتھن سے اب اس پورے معاملے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل پولیس نے شریسن فارماسیوٹیکل کمپنی کے مفرور مالکان پر انعام مقرر کیا تھا۔ اعلان کیا گیا تھا کہ جو بھی شخص ان کی گرفتاری میں مدد کرے گا، اُسے 20 ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ایس آئی ٹی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ملزمان کو جلد از جلد پکڑا جا سکے۔ اسی ٹیم کی محنت سے رنگناتھن کی گرفتاری ممکن ہو سکی ہے۔
ریاست کے وزیرصحت نے کیا کہا؟
یہ معاملہ پوری ریاست کو دہلا کر رکھ دینے والا ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کےوزیر صحت نریندر شیو جی پٹیل نے اس پر بڑا بیان دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 20 بچوں کی اموات ناخص کف سیرپ پینے سے ہوئی ہے اور اس کے لیے تمل ناڈو حکومت کی لاپرواہی ذمہ دار ہے۔ پٹیل نے کہا کہ تمل ناڈو حکومت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ بیرون ریاست بھیجی جانے والی دواؤں کی کوالٹی کی جانچ کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت بھی ریاست میں آنے والی دواؤں کی رینڈم جانچ کرتی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ سیرپ اُس سیمپلنگ میں شامل نہیں ہو سکا۔ فی الحال معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیش تیز کر دی گئی ہے اور اس معاملے میں ملوث دیگر ملزمین کی بھی تلاش جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…