علاقائی

Book Release: زندگی کی حقیقت سے روبرو کرتی ہے کتاب امِئی: ڈاکٹر دنیش شرما

لکھنؤ: راجیہ سبھا کے رکن اور یو پی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنییش شرما نے کتاب امِئی کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب انسان کو زندگی کی حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ ایک بہترین مصنف کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر سطر اگلی سطر کے بارے میں تجسس پیدا کرتی ہے۔ اس کتاب کے مصنف کی بھی یہی خصوصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تبدیل ہوتی ہوئی ڈیموگرافی نے لوگوں کو خاندان کے جذبے سے دور کر دیا ہے۔ اب معاشرے میں لوگ تجارتی نقطہ نظر سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملک کے لوگ بھی بھارت کی ثقافت کے نظریات کو بھول کر مغربی ثقافت کی طرح دکھاوے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ تحریر کے ذریعے ہی معاشرے کو اس قسم کی بے ضابطگیوں کے بارے میں بیدار کیا جا سکتا ہے۔

نریندر بھدوریا کے مضامین وطن سے محبت کے جزبہ سے سرشار

آڈیٹوریم گومتی نگر، لکھنؤ میں سینئر صحافی اور مصنف نریندر بھدوریا کی حال ہی میں شائع شدہ کتاب ’امِئی‘ کی رونمائی کی تقریب میں ڈاکٹر شرما نے کہا کہ نریندر بھدوریا کے مضامین وطن سے محبت کے جزبہ سے سرشار اور تاریخ کی صحیح سمت دکھانے والے ہیں۔ یہ معاشرے کو بیدار بھی کرتے ہیں۔ ان کے ایک مضمون میں بھارت کی بڑھتی ہوئی آبادی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ واسکو ڈی گاما کے ذریعے بھارت کی دریافت کے بارے میں کئی حقائق کو چھپایا گیا تھا۔ بائیں بازو کے تاریخ دانوں نے جان بوجھ کر بھارت کی تاریخ کو غلامی کی تاریخ بتایا تھا۔ حملہ آوروں نے ملک کو لوٹنے کا کام کیا۔ بھدوریا جی کی تحریر یہ بتاتی ہے کہ ملک کی تاریخ غلامی کی نہیں بلکہ جدوجہد کی تاریخ ہے۔ یہ اپنی ثقافتی وراثت کو زندہ رکھنے کی تاریخ ہے۔ ملک نے کبھی غلامی کو قبول نہیں کیا۔

بچوں کو دادا دادی، نانا نانی کے ساتھ رکھنا چاہیے؟

دیوی پریمی سیوا سنستھان کے بانی آشیش ، سینئر پرچارک ویرندر کی خصوصی موجودگی میں شریک ہوکر کتاب میں بیان کی گئی سناتن ثقافت اور بھارتی روایات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو دادا دادی، نانا نانی کے ساتھ رکھنا چاہیے۔ وہاں پر بازار کا نظام کی آمد سے معاشرے میں کافی خامیاں پیدا ہوئی ہیں۔ شوہر بیوی دونوں کا نوکری پیشہ ہونے سے گھر کے بزرگوں کو بزرگ آشرم جانا پڑا۔ خاندانی نظام ختم سا ہو گیا جس کی وجہ سے بچوں کے والدین کے ساتھ لگاؤ کم ہو گیا۔ آج بھارت میں بھی یہی نظام آ رہا ہے۔ آج ملک میں بھی سماجی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ بچوں کی شادیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ زندگی مشکل سے ملتی ہے۔ اس زندگی کو خوشگوار بنانے کی راہ بھارت کی ثقافت اور روایات میں ہے۔ ہر سناتنی کا ایک کنواں، ایک مندر اور ایک شمشان ہونا چاہیے تاکہ وہ علیحدگی پسندی اور علاقائیت سے بچتے ہوئے قوم پرستی کی طرف بڑھے۔ اس موقع پر سوانت رنجن، کرپا شنکر، آشیش کا خطاب متاثر کن تھا۔ انہوں نے سماجی تفاوتوں کے ساتھ ساتھ بھارتی ثقافت کی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے خود انحصار بھارت کی طرف قدم بڑھانے کی اپیل کی اور خودی کو اس کا بنیادی منتر بتایا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

3 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

4 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

4 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago