لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں جمعرات کے روز اندرا نہر کے قریب دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں چار افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی ہے۔ یہ حادثہ بی بی ڈی تھانہ علاقہ میں پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ ایک ایس یو وی کار کو ایک ٹرک نے پیچھے سے ٹکر ماری اور پھر ایک وین اس سے ٹکرا گئی۔ پولیس کے مطابق حادثے میں وین میں سوار تین افراد اور ایس یو وی کار میں سوار ایک شخص سمیت چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔ پولیس نے کہا کہ اس حادثے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا۔ ایس ایچ او پنکج سنگھ نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مرنے والوں کی شناخت
ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی شناخت 40سالہ شہزاد ، 38 سالہ کرن یادو، 20 سالہ کندن اور 17 سالہ ہمانشو کے طور پر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
پلک جھپکتے ہی ہوا حادثہ
حادثے کو دیکھ کر قریبی لوگ سب سے پہلے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے انووا اور وین میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ انووا میں سوار لوگوں کو بھی باہر نکال لیا گیا ، لوگوں نے پولیس کی بھی مدد کی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑیاں ایک کے بعد ایک آپس میں ٹکرا تی گئیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پلک جھپکتے ہی حادثہ ہو گیا ہو۔ ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ انووا میں سوار افراد بھی پورا واقعہ بتانے سے قاصر ہیں۔
اس حادثہ کا ٹریفک پر بھی اثر
حادثے کے بعد چاروں گاڑیاں سڑک کے بیچ میں تھیں، جس سے ایک طرف ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ کرین کی مدد سے گاڑیوں کو ہٹانے کے بعد ہی ٹریفک دوبارہ شروع ہو سکا۔ اس طرح تقریباً ایک گھنٹے تک ٹریفک متاثر رہا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…