اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کا سربراہی اجلاس ستمبر 2025 میں نیویارک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر دنیا کے سرکردہ رہنما ایک بار پھر بین الاقوامی ایجنڈا طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اس بار امریکہ کے دورے کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ یہ ملاقات نہ صرف بھارت-امریکہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ تجارت، ٹیرف اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر بھی اہم اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سات مہینوں میں دوسری ملاقات ہوگی۔ پچھلی بار فروری میں وزیراعظم مودی نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں دونوں کے درمیان ذاتی گرمجوشی دیکھنے کو ملی تھی، لیکن دوسرے دور میں ٹیرف اور تجارتی مسائل پر ان کے بیانات نے اس رشتے میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
ٹیرف سے بڑھتی کشیدگی
بھارت-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مہینوں سے بات چیت جاری ہے، لیکن زراعت اور ڈیری سیکٹر سے متعلق بھارت کی ہچکچاہٹ اس معاہدے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس تعطل کے دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، اور روس سے تیل کی خریداری کے باعث 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی لگا دی، جس سے کل ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا۔ ان میں سے آدھے ٹیرف 7 اگست کو لاگو ہو چکے ہیں جبکہ باقی 27 اگست سے نافذ ہوں گے۔ اس ڈیڈ لائن سے پہلے دونوں ممالک اعلیٰ سطحی میٹنگز کر رہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح معاہدہ ہو سکے۔ یہ مسئلہ صرف تجارت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ امریکہ کی معاشی سلامتی اور بھارت کے عالمی تجارتی مفادات کے درمیان تصادم کی علامت بن چکا ہے۔
امریکہ-بھارت کے درمیان نیا تنازع
یوکرین جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنا امریکہ کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ اس سے روس کو جنگی مہم جاری رکھنے کے لیے آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس مسئلے پر بھارت پر تنقید کرتے ہوئے درآمدات کم کرنے کا دباؤ بڑھایا ہے، اس امید کے ساتھ کہ معاشی دباؤ کے ذریعے روس کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں بھارت نے امریکہ کو منافق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کمپنیاں خود روس سے یورینیم، کیمیکل اور کھاد خرید رہی ہیں۔ اس بیان نے سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی اور پوتن-ٹرمپ ملاقات کی اہمیت
15 اگست کو صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات پر بھارت گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ ملاقات تین سال سے جاری یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے ممکنہ راستوں پر گفتگو کے لیے ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ صرف ایک جغرافیائی سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ اپنی توانائی اور تجارتی مفادات کے مطابق سفارتی حکمت عملی ترتیب دینے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے…