ملک کو ان مولویوں اور علما کی ضرورت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔مذہبی رہنماؤں کو مسجدوں تک محدود رہنا چاہیے، نہ کہ وہ سیاست کی سمت طے کریں۔مسلم خواتین کو عزت، تعلیم اور برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔
ایسے علما و مذہبی رہنما جو سیاست کو مذہب کی بنیاد پر چلاتے ہیں، وہ درحقیقت نہ صرف جمہوریت کے اصولوں کو مجروح کرتے ہیں بلکہ مسلم سماج کو بھی ایک مخصوص دائرے میں محدود کر دیتے ہیں۔ مذہب کا کام روحانی رہنمائی ہے، نہ کہ سیاسی ایجنڈے بنانا۔ مساجد عبادت کے لیے ہیں، نہ کہ سیاسی نظریات کے فروغ کے مراکز۔
سماج کو پیچھے لے جانے والی روایات اور پابندیاں اب ناقابلِ قبول ہیں۔سچا قائد وہی ہےجو خود احتسابی کرے اور یہ تسلیم کرے کہ جہالت اور انتہاپسند سوچ نے مسلم معاشرے کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔
معتدل مسلمانوں کوآگے آ کر اپنی آواز بننا ہوگا:آمرانہ ذہنیت کی مخالفت کرنا ہوگی،خواتین دشمن رسم و رواج کو مسترد کرنا ہوگا،تعلیم، روزگار اور بھارت کی ترقی سے کمیونٹی کو جوڑنا ہوگا۔
مستقبل صرف اُن کا ہے جو ترقی پسند ہیں،نہ کہ اُن پرانی زنجیروں کا جو معاشرے کو جکڑے ہوئے ہیں۔
#اصلاح #برابری
#مسلم_نوجوان
بھارت ایکسپریس اردو
لیفٹیننٹ گورنر نے افسران کو واضح ہدایت دی کہ تمام محکمے اپنے کاموں کی باقاعدگی…
جیو پلیٹ فارمز کی لسٹنگ کے موقع پر اننت امبانی نے کہا کہ ریلائنس گروپ…
دیویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام سات روزہ ثقافتی پروگرام اختتام پذیر۔ تاریخی ڈرامے…
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد آگے، امریکی صدر…
’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔…
یو جی سی نیٹ دسمبر 2026 کے لیے آن لائن درخواست جمع کرنے کی آخری…