نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ اپوزیشن آکاشوانی بھون کے احاطے میں اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کو اس مظاہرے سے ’’دقت‘‘ ہے تو اسے احتجاج کے لیے کوئی متبادل جگہ فراہم کرنی چاہیے۔ اس سے قبل انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ہیڈکوارٹر نرواچن سدن کی جانب مارچ کرتے ہوئے پہنچے، جہاں انہیں بیریکیڈ لگا کر روک دیا گیا۔ اس کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کے دفتر سے تقریباً 100 میٹر دور واقع آکاشوانی کمپلیکس کے اندر دھرنا دے دیا۔ راہل گاندھی سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ نرواچن سدن پہنچنے کی کوشش میں بیریکیڈ پھلانگتے بھی نظر آئے۔ آکاشوانی بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’ہمیں یہاں احتجاج کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم یہاں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اگر انہیں (دہلی پولیس کو) ہمارے یہاں احتجاج کرنے سے دقت ہے تو وہ ہمیں احتجاج کے لیے کوئی دوسری جگہ دے سکتے ہیں۔ آئین ہمیں احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے۔‘‘ انڈیا بلاک کی کئی جماعتوں کے رہنماؤں نے مارچ میں شرکت کی اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے عمل سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ یہ احتجاج اپوزیشن کی جانب سے اعلان کردہ وسیع تر ’’ جمہوریت بچاؤ‘‘ مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت اس کے رہنما الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرے اور عوامی پروگرام کر رہے ہیں۔
نرواچن سدن کے باہر کشیدگی، کئی کارکن حراست میں
احتجاج کے دوران اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب کانگریس کارکنوں اور انڈیا بلاک کے حامیوں نے نرواچن سدن میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے آکاشوانی بھون میں داخل ہونے والے کانگریس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ مارچ کے بعد علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ تھے۔ ایک پولیس افسر نے عمارت کے باہر جمع انڈین یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے کارکنوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ وہاں اس طرح کا اجتماع غیر قانونی ہے۔ افسر نے خبردار کیا کہ تعاون نہ کرنے والوں کو حراست میں لیا جائے گا۔ بعد میں حراست میں لیے گئے کارکنوں کو ایک بس میں لے جایا گیا۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن کے نمائندوں کو الیکشن کمیشن کے عہدیداروں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر الیکشن کمیشن اور پولیس کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’وہاں سے 300 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو ہٹا دیا گیا، اس لیے میں یہاں آکر بیٹھ گیا۔ ہم صرف گیانیش کمار اور دیگر الیکشن کمشنروں سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ ہیں اور صرف ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ہم سے بات کیوں نہیں کرنا چاہتا، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ کروڑوں لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ ہم صرف سوال پوچھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ جواب نہیں دینا چاہتے۔‘‘
راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن اور حکومت پر الزام
مرکز اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’جمہوریت ختم ہوچکی ہے۔ نریندر مودی جی، امت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار نے ووٹ ختم کردیا ہے۔ ملک سمجھ چکا ہے۔ ایک طرح سے نریندر مودی جی اور امت شاہ جی نے ملک کو ہائی جیک کرلیا ہے۔ ہم ’آئین بچانے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ان کے یہ تبصرے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے معاملے پر جاری تنازع کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ یہ تازہ تنازع انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے پس منظر میں بھی سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران دو الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 14 اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے تھے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے فارم 6 میں کی گئی تبدیلی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کو کہا تھا کہ اس نے SIR کے دوران نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال کیے جارہے فارم 6 کے کسی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…
کاجل نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسا کسی کے چھوڑ جانے یا محبت میں…
مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…
فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…
مینوفیکچرنگ، سروس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی شعبوں میں توسیع کو ملے گا فروغ۔ کامیاب…
جیوتی رادتیہ سندھیا کی پہل سے تقریباً 170 ایکڑ میں تیار ہوگا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ…