سیاست

PMModi congratulates Sushila Karki, Nepal’s first female PM: نیپال کی پہلی خاتون پی ایم سوشیلا کارکی کو مودی نےدی مبارکباد، بھارت نے امن و خوشحالی کی حمایت دہرائی

نیپال ان دنوں ایک بڑے سیاسی تغیر سے گزر رہا ہے، جہاں جنریشن-زی تحریک کے نتیجے میں سابق پی ایم کے پی شرما اولی کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اس غیر متوقع سیاسی ہلچل کے بعد سوشیلا کارکی کو عبوری پی ایم مقرر کیا گیا ہے۔ سوشیلا کارکی نہ صرف نیپال کی پہلی خاتون پی ایم بنی ہیں ،بلکہ انہیں ایک ایسے وقت میں قیادت ملی ہے ،جب ملک داخلی خلفشار، عوامی غصے، اور سیاسی بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہے۔
پی ایم نریندر مودی کی مبارکباد اور بھارت کا رددمل

بھارتی پی ایم نریندر مودی نے اس موقع پر سوشیلا کارکی کو عبوری پی ایم بننے پر دلی مبارکباد دی اور اپنے پیغام میں لکھا:”نیپال کی عبوری حکومت کی پی ایم کے طور پرعہدہ سنبھالنے پر سوشیلا کارکی کو دلی نیک خواہشات۔ نیپال کے بھائی بہنوں کی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھارت مکمل طور پر پُرعزم ہے۔”یہ پیغام مودی نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر شیئر کیا، جو بھارت کی نیپال کے ساتھ قریبی تعلقات اور جمہوری استحکام کی حمایت کا مظہر ہے۔
بھارت کا سفارتی مؤقف: دو طرفہ تعاون کی یقین دہانی
بھارت کے وزارت خارجہ (MEA) نے بھی اپنے بیان میں نیپال میں سیاسی تبدیلی کا خیر مقدم کیا۔ بیان میں کہا گیا: ہم سوشیلا کارکی کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ اس سے ملک میں امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایک قریبی ہمسایہ، جمہوری شراکت دار اور ترقیاتی ساتھی کے طور پر بھارت نیپال کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود اور علاقائی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرتا رہے گا۔
جنریشن زی تحریک: ایک نسل کی بیداری یا سیاسی ہنگامہ؟
نیپال میں یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی جنریشن زی تحریک نے حکومت کے خلاف ایک زبردست عوامی ردِعمل کی شکل اختیار کر لی تھی۔ تحریک کی شروعات 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف ہوئی، مگر جلد ہی یہ غصہ ایک وسیع تر سیاسی بغاوت میں تبدیل ہو گیا۔ اس دوران نہ صرف پُرتشدد مظاہرے ہوئے بلکہ کئی وزراء کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا، اور ملک میں عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو تحلیل کر کے عام انتخابات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
سوشیلا کارکی: نیپال کی پہلی خاتون پی ایم
سوشیلا کارکی نیپال کی تاریخ کی پہلی خاتون ہیں جنہیں پی ایم کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے قبل وہ سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بھی رہ چکی ہیں اور ایک ایماندار، سخت گیر اور عوام دوست شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی تقرری کو نیپال میں جمہوریت اور صنفی برابری کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔نیپال میں جاری تبدیلی صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی جمہوری بیداری کی علامت ہے۔ بھارت، جو ہمیشہ نیپال کا قریبی ساتھی رہا ہے، اس نازک دور میں اپنی سفارتی سنجیدگی، انسانی ہمدردی اور ترقیاتی تعاون کے ساتھ نیپال کے ساتھ کھڑا ہے۔یہ وقت نیپال کے لیے ایک نئے آغاز کا موقع ہے۔ سوشیلا کارکی کی قیادت اور بھارت کی حمایت سے اگر سیاسی استحکام قائم ہوتا ہے تو یہ نہ صرف نیپال بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے امن اور خوشحالی کا پیغام ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Abhijeet Dipke: ابھیجیت دیپکے اور سی جےپی ٹیم کے خلاف پولیس میں شکایت، لگے یہ الزامات

شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سرگرمی کو ’پُرامن احتجاج‘ قرار نہیں دیا جا…

2 minutes ago

این آئی اے کیس میں پانچ سال سے زائد عرصے سے زیرحراست محمد شہزاد کمال کو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت

یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب…

27 minutes ago

Asian Games 2026: انکش پنگھال کا گولڈن پنچ، 6میڈل کے ساتھ ہندوستان کی باکسنگ مہم ختم

انکش پنگھال کے گولڈ کے ساتھ ہی ایشیئن گیمز 2026 میں ہندوستان کی باکسنگ مہم…

44 minutes ago

Gold Smuggling Case: رانیہ راؤ پر پھر کسا شکنجہ، چاروں ملزمان پرتقریباً 270 کروڑ روپے جرمانہ

الزام ہے کہ سونا جسم کے مختلف حصوں، کپڑوں اور جوتوں میں چھپا کر ہندوستان…

1 hour ago