ملک کی فوجی طاقت کی علامت بن چکے ‘آپریشن سندور’ کے حوالے سے آج (28 جولائی 2025) لوک سبھا میں ایک خاص بحث ہونے جا رہی ہے۔ یہ بحث دوپہر 12 بجے سے شروع ہوگی، جس میں سب سے پہلے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ بحث کے آغاز سے قبل آپریشن سے متعلق تمام اہم دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق، یہ بحث تقریباً 16 گھنٹے تک چلے گی اور اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی مداخلت کا بھی امکان ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اس مہم کی حکمت عملی، کامیابی اور اس کے پیچھے بھارت کی فوجی صلاحیتوں پر روشنی ڈالیں گے۔
حکومت کی بڑی تیاری، فوجی سربراہان کے ساتھ کئی اجلاس
وزیر دفاع نے اس اہم بحث سے قبل چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، سیکرٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور تینوں افواج کے سربراہان کے ساتھ کئی مرحلوں میں حکمت عملی کے اجلاس کیے ہیں۔ ان اجلاسوں میں بحث کے ہر پہلو پر حکومت کی جانب سے جواب دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اپوزیشن بھی سرگرم، مشترکہ حکمت عملی پر غور
دوسری جانب، اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ نے بھی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر لی ہے۔ بحث سے قبل آج اپوزیشن رہنماؤں کی ایک میٹنگ بلائی گئی ہے، جس میں حکومت سے سوالات کرنے کی مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آپریشن سندور کیا ہے؟
‘آپریشن سندور’ کا آغاز 7 مئی کو اُس وقت ہوا جب 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے جواب میں بھارتی فوج نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات فوری کارروائی کی۔ یہ فوجی آپریشن صرف 22 منٹ میں مکمل ہوا، جس میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
وزیر اعظم مودی نے اس کارروائی کو ’وجے اتسو‘ (فتح کا جشن) قرار دیا اور اسے ملک کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کی جیت بتایا۔ تاہم، اپوزیشن اس آپریشن کی شفافیت اور معلومات کی فراہمی کے حوالے سے حکومت سے جواب مانگ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…