سیاست

Pm Modi In Japan: جاپان میں پدھارو مارے دیش، ٹوکیو میں جاپانی طالبات نے راجستھانی لباس پہن کر پی ایم مودی کا کیااس انداز میں استقبال

پی ایم  نریندر مودی اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر آج جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پہنچے، جہاں ان کا نہایت گرمجوش اور ثقافتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر ٹوکیو کے ہنیڈا ایئرپورٹ پر ایک دل کو چھو لینے والا منظر اس وقت دیکھنے کو ملا، جب دو جاپانی طالبات نے روایتی راجستھانی لباس پہن کر پی ایم مودی کا استقبال کیا اور معروف جملہ پدھارو مارے دیش کہہ کر ان کا خیرمقدم کیا۔ اس منفرد اور دلکش منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

مائیومی کا جذبہ: بھارت سے محبت

ان میں سے ایک جاپانی طالبہ، جنہوں نے اپنا بھارتی نام مدھو بتایا، انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اصل نام مائیومی (Mayumi) ہے، اور وہ آج اپنے شاگرد کے ساتھ مل کر وزیرِاعظم مودی کا ہندی زبان میں استقبال کرنے آئی ہیں۔ مائیومی نے بتایا کہ وہ 2020 سے ہندی سیکھ رہی ہیں اور زیادہ تر ہندی فلموں کے ذریعے انہوں نے یہ زبان سیکھی ہے۔

مائیومی نے کہا:”پی ایم  نریندر مودی کا دورۂ جاپان ہمارے لیے تاریخی اور خوش آئند ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت اور جاپان کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ ہم انہیں راجستھانی زبان میں ‘پدھارو مارے دیش’ کہہ کر دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔”

مائیومی: ایک خوبصورت نام، ایک خوبصورت جذبہ

جاپانی زبان میں “مائیومی” کا مطلب ہوتا ہے خوبصورت کمان۔ یہ نام جاپانی ثقافت میں ذہانت، اخلاقی مضبوطی، اور خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پی ایم  کا مقصد اور آگے کا سفر
پی ایم مودی اس دورے کے دوران جاپان میں منعقد ہونے والے شراکت داری اجلاس (Summit) میں شرکت کریں گے، جو 29 اور 30 اگست کو ٹوکیو میں منعقد ہو رہا ہے۔ روانگی سے قبل پی ایم مودی نے اپنے بیان میں کہا:”میرا یہ دورہ بھارت کے مفادات کو فروغ دے گا، اور عالمی امن و باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔”

دورۂ جاپان کے بعدپی ایم نریندر مودی چین کے شہر تیانجن جائیں گے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی متوقع ہے۔

ٹوکيو میں جاپانی طالبات کی طرف سے راجستھانی ثقافت میں پی ایم  مودی کا استقبال دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عوامی دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مائیومی جیسے نوجوان چہروں کا بھارت سے لگاؤ نہ صرف دل کو چھوتا ہے، بلکہ بھارت کی ثقافت کی عالمی اثرپذیری کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Bike rider Shivani Chauhan: گرفتاری کافی نہیں، سخت سزا ملنی چاہیے، گڑگاؤں ہٹ اینڈ رن کے ملزم کلیان بینسلا پر بولیں رائیڈر سیا

سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…

2 hours ago