ہندوستان کے عظیم ہاکی کھلاڑی اور “ہاکی کے جادوگر” کے لقب سے مشہور میجر دھیان چند کی جینتی کے موقع پر آج پورے ملک میں “نیشنل اسپورٹس ڈے” (National Sports Day) منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پی ایم نریندر مودی نے میجر دھیان چند کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ “ان کی عظمت اور مہارت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔”
پی ایم کا خراجج عقیدت
سماجی پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے کہا:” نیشنل اسپورٹس ڈے کی دل سے مبارکباد، اس خاص موقع پر ہم میجر دھیان چند جی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کی غیرمعمولی صلاحیتیں آنے والی نسلوں کو مسلسل تحریک دیتی رہیں گی۔”
انہوں نے مزید لکھا کہ گزشتہ دہائی میں بھارت کے کھیلوں کے منظرنامے میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔
ہم نے نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو نکھارنے کے پروگراموں سے لے کر عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے تک، ایک بھرپور اور متحرک اسپورٹس ایکو سسٹم تیار کیا ہے۔ ہماری حکومت کھلاڑیوں کی مکمل مدد، کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی اور بھارت کو عالمی اسپورٹس پاور ہاؤس بنانے کے لیے پابندعہد ہے۔”
میجر دھیان چند: ایک ناقابلِ فراموش لیجنڈ
میجر دھیان چند کی پیدائش29 اگست 1905 کو الہٰ آباد (موجودہ پریاگ راج) میں ہوئی تھی ۔ انہیں ان کی بے مثال ہاکی مہارت کی وجہ سے “ہاکی کا جادوگر” کہا جاتا ہے۔ ان کے کھیل کے دوران، گیند ان کی اسٹک سے اس طرح چپکی رہتی تھی جیسے کوئی جادو ہو۔ ان کے کریئر میں 1000 سے زائد گول کا ریکارڈ موجود ہے۔
انہیں 1956 میں بھارت کے تیسرے اعلیٰ ترین شہری اعزاز “پدم بھوشن” سے نوازا گیا تھا۔ ان کی سادگی اور پیشہ ورانہ لگن نے نہ صرف انہیں ایک عظیم کھلاڑی بنایا بلکہ قومی فخر کا استعارہ بھی۔
فوجی خدمات اور ہاکی کی شروعات
سادہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد، سال 1922 میں محض 16 برس کی عمر میں وہ دہلی میں “پہلی برہمن رجمنٹ” میں بطور سپاہی شامل ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوج میں شمولیت سے قبل انہیں ہاکی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔
انہیں ہاکی کھیلنے کی ترغیب رجمنٹ کے صوبیدار میجر تیواری نے دی، جو خود بھی ایک ہاکی کے شوقین اور کھلاڑی تھے۔ ان کی سرپرستی میں دھیان چند نے ہاکی کھیلنا شروع کیا، اور پھر کچھ ہی عرصے میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے۔
ہٹلر کا آفر اور حب الوطنی کا مظاہرہ
یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ 1936 کے برلن اولمپکس میں شاندار کارکردگی کے بعد ایڈولف ہٹلر نے میجر دھیان چند کو جرمن شہریت اور فوج میں اعلیٰ عہدہ پیش کیا تھا، لیکن انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اپنی قوم، بھارت سے وابستگی کا اظہار کیا۔
میجر دھیان چند نہ صرف ایک عظیم کھلاڑی تھے بلکہ حب الوطن، سادگی اور لگن کی زندہ مثال بھی۔ قومی کھیل دن کے موقع پر ان کی یاد تازہ کرنا صرف ماضی کو خراج عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو کھیلوں کے میدان میں عظمت کے سفر پر روانہ کرنے کی تحریک دینا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…
تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…