کیلیفورنیا: امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں بھارتی طالب علم محمد نظام الدین کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 32 سالہ نظام الدین کا تعلق بھارت کی ریاست تلنگانہ سے تھا اور وہ امریکہ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
یہ واقعہ 3 ستمبر کو پیش آیا۔ پولیس کے مطابق نظام الدین پر الزام تھا کہ وہ اپنے روم میٹ پر چاقو سے حملہ کرنے والا تھا۔ اسی بنیاد پر سانتا کلارا پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس پر فائرنگ کی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
پولیس نے مدد کے بجائے گولی ماری؟
نظام الدین کے والد محمد حسن الدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے نے خود پولیس کو فون کر کے مدد طلب کی تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے انہی پر گولی چلا دی، جو نہ صرف ناقابلِ قبول ہے ،بلکہ نسلی امتیاز (Racial Discrimination) کی بھی علامت ہے۔
نسلی امتیاز کا پہلو؟
نظام الدین نے اپنی موت سے کچھ ہفتے قبل LinkedIn پر ایک پوسٹ کی تھی، جس میں اس نے واضح طور پر نسلی امتیاز، تنخواہ میں دھوکہ دہی، سفید فام بالادستی کا الزام لگیا گیا تھا (White Supremacy) اور غلط طریقے سے نوکری سے نکالے جانے کا ذکر کیا تھا۔
ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرامن اور سنجیدہ نوجوان تھا اور اسے ذہنی طور پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔
میت کو بھارت لانے کی اپیل
نظام الدین کی لاش اس وقت سانتا کلارا کے ایک اسپتال میں محفوظ ہے۔ ان کے خاندان نے بھارتی وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محمد نظام الدین کے میت کی کو بھارت واپس لانے میں مدد فراہم کرے۔
مجلس بچاؤ تحریک (MBT) کے ترجمان امجد اللہ خان نے بھی خاندان سے ملاقات کر کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھا ہے تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔
خاندان کا مطالبہ: شفاف تحقیقات کی جائیں
نظام الدین کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ:گولی چلانے والے پولیس افسران کے بیانات اور ان کے اقدامات کی مکمل جانچ ہو۔نسلی امتیاز پر مبنی نظام الدین کی سوشل میڈیا پوسٹ کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے۔ پولیس کی غیر ضروری طاقت کے استعمال پر کارروائی کی جائے۔
امریکہ میں بھارتیوں کی ہلاکتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں
نظام الدین کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں درج ذیل ہلاکتیں ہو چکی ہیں:10 ستمبر 2025 کو ٹیکساس میں کُرْناتَک کے باشندے چندر مولی ‘باب’ ناگمالیہ کو ان کے ساتھی نے بے دردی سے قتل کر دیا۔6 ستمبر 2025 کو کیلیفورنیا میں ہریانہ کے کپِل کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) کے طالب علم کرن کٹاریا کے ساتھ بھی نسلی تعصب برتا گیا، انہیں صرف ان کے بھارتی اور ہندو ہونے کی بنیاد پر طلبہ یونین کے انتخابات سے الگ کر دیا گیا۔
نتیجہ: کیا بھارتی شناخت خطرہ بن گئی ہے؟
مسلسل پیش آنے والے ان واقعات نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے:کیا مغربی دنیا میں بھارتی شناخت اور رنگ و نسل اب بھی تعصب کا شکار ہے؟
نظام الدین کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ:ان معاملات کو سفارتی سطح پر اُٹھایا جائے،امریکہ میں بھارتی شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح حکمت عملی بنائی جائے
محمد نظام الدین کی موت صرف ایک شخص کا سانحہ نہیں
محمد نظام الدین کی موت صرف ایک شخص کا سانحہ نہیں، بلکہ وہ ایک بڑی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے — کہ ترقی یافتہ معاشرے میں بھی نسلی امتیاز، غلط فہمی اور طاقت کے ناجائز استعمال سے کوئی محفوظ نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…