رازیل میں وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے گیت گانے والی کلاسیکی موسیقی کی گلوکارہ میتا رویندر کمار کراہے نے بدھ کے روز کہا کہ آج کے دور میں دنیا بھر میں غیر مقیم بھارتیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ وزیراعظم مودی کی کرشماتی قیادت کی بدولت ممکن ہو پایا ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارتیوں کو دیکھنے کا نظریہ بھی بدلا ہے۔
بھارتیوں کو مل رہا احترام
انہوں نے کہا کہ میں پچھلے 53 سالوں سے برازیل میں رہ رہی ہوں۔ میں یہاں 1973 میں آئی تھی اور میں نے محسوس کیا ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں دنیا بھر میں بسنے والے بھارتیوں کو دیکھنے کا انداز بدل گیا ہے۔ آج لوگ ہندوستانیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اتنے برسوں سے برازیل میں رہ رہی ہوں، لیکن یقین مانیں مجھے آج تک ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں ہندوستان سے دور ہوں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی ثقافت ایک دوسرے سے کافی حد تک ملتی جلتی ہے۔ دونوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔ اس ملک میں مجھے اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے مجھے بے حد محبت دی ہے۔
وہ اپنے کلاسیکی موسیقی کے سفر کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بچپن سے ہی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم لینا شروع کر دی تھی۔ مانک ورما، لکشمی شنکر جی، پنڈت پربھاکر کاریکر جی میرے استاد رہے ہیں، جن سے میں نے کلاسیکی موسیقی سیکھی ہے۔
میتا رویندر کمار کراہے کی وزیراعظم مودی سے ملاقات
میتا رویندر کمار کراہے اپنی وزیراعظم مودی سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ میری وزیراعظم سے دور سے ہی ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں ہاتھ ہلا کر خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ کل میں آپ کے استقبال میں گانے جا رہی ہوں، تو وہ مسکرا دیے۔
وزیراعظم مودی کے استقبال میں گایا گیا گیت
ساتھ ہی میتا رویندر کراہے یہ بھی بتاتی ہیں کہ انہیں وزیراعظم مودی کے استقبال کے لیے گانے کا موقع کیسے ملا۔ برازیل کی حکومت چاہتی تھی کہ وزیراعظم مودی کے استقبال کے لیے انہی کے ملک کا کوئی شہری ہو اور موسیقی ایسی ہو جو خاص طور پر وزیراعظم مودی کو پسند ہو۔ اس کے بعد برازیل حکومت نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے گانے کے لیے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ برازیل میں کئی ایسے لوگ ہیں، جو سنسکرت زبان سیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن ہماری سنسکرت زبان کے پیچیدہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو سیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن مجھے شروع میں یہ جان کر کافی حیرت ہوئی کہ یہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ سنسکرت سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے میری کوشش رہتی ہے کہ میں آسان طریقے سے لوگوں کو سنسکرت سکھاؤں۔ یہی نہیں، یہاں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو بھارت جا کر سنسکرت سیکھنا چاہتے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ پہلے میں یہاں کے لوگوں کو سنسکرت زبان کی بنیادی تعلیم دوں تاکہ جب وہ بھارت جائیں تو انہیں کسی قسم کی دقت نہ ہو۔
وزیراعظم مودی نے بھارت آنے کی دعوت دی
انہوں نے کہا کہ جب میں بھجن گا رہی تھی، تو اسٹیج پر دونوں ملکوں کےرہنما موجود تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں رام بھجن گاؤں، تو میں نے رام بھجن گایا۔ اس کے بعد مجھے وزیراعظم مودی نے کہا کہ آپ اتنا اچھا رام بھجن گاتی ہیں، تو ایودھیا آئیے۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…