سیاست

PM Modi SCO summit 2025: مودی-پوتن ملاقات،  بھارت-روس تعلقات کو ملی نئی اڑان ،ٹرمپ کے لیے بڑا پیغام؟

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی پی ایم  نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان دو طرفہ ملاقات نے عالمی سفارتی منظرنامے پر خاصی توجہ حاصل کی۔ یہ ملاقات نہ صرف بھارت اور روس کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی علامت تھی بلکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق  یہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مغربی دنیا کے لیے بھی ایک سفارتی اشارہ تھی کہ بھارت اب بھی روس کے ساتھ قریبی تعلقات کو ترجیح دیتا ہے، چاہے عالمی منظرنامہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو۔

مودی کا واضح پیغام: امن، استحکام اور قربت

پی ایم مودی نے ملاقات کے دوران کہا:”مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ سے ملاقات یادگار ہوتی ہے۔ ہم مختلف امور پر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ امن کی حمایت کرتا آیا ہے اور مشکل حالات میں بھی روس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔”

مودی نے دسمبر میں متوقع 23ویں بھارت-روس سربراہی اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:”140 کروڑ بھارتی شہری اس دورے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ہماری شراکت داری کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔”

پوتن کا جواب: بھارت ایک “اہم شراکت دار”

صدر پوتن نے مودی کے ساتھ ملاقات کو “خوشگوار” قرار دیا اور کہا:”ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ ہم اپنے تمام مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کریں گے۔ بھارت روس کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور ہر سطح پر تعاون ناگزیر ہے۔”

یہ بیان واضح کرتا ہے کہ روس، بھارت کو نہ صرف ایک روایتی دوست بلکہ مستقبل کے اسٹریٹجک ساتھی کے طور پر بھی دیکھتا ہے، خاص طور پر جب روس مغرب سے الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے۔

یوکرین تنازع پر بھارت کا مؤقف: امن کی وکالت

مودی نے ملاقات میں یوکرین تنازع پر بھی بات کی:”ہم یوکرین میں جاری تنازع پر مسلسل بات کرتے رہے ہیں۔ بھارت ہر اس کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو امن کے قیام کی طرف بڑھتی ہے۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ تعمیری انداز اپنائیں تاکہ جلد از جلد ایک پائیدار حل ممکن ہو۔”

یہ مؤقف بھارت کی “متوازن سفارت کاری” کا مظہر ہے—جہاں وہ مغرب کے ساتھ تعلقات بھی قائم رکھتا ہے اور روس سے پرانے رشتے بھی نبھاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین جنگ کے تناظر میں دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔

کیا ٹرمپ کے لیے پیغام ہے؟

ملاقات کا ایک اور پہلو وہ ہے جو عالمی تجزیہ کاروں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا: کیا یہ ملاقات امریکہ، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک “بالواسطہ پیغام” ہے؟
امریکہ میں ٹرمپ کی سیاست میں واپسی کی کوششیں جاری ہیں، اور ان کے روس کے ساتھ تعلقات پہلے بھی متنازع رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مودی-پوتن قربت واشنگٹن کے لیے ایک سفارتی چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر بھارت اپنی “اسٹریٹجک خودمختاری” پر زور دیتا رہے۔

بھارت-روس دوستی، توازن کی سفارت کاری

تیانجن میں مودی اور پوتن کی ملاقات نے یہ ثابت کیا کہ بھارت-روس دوستی وقتی حالات سے بالاتر ہے۔ جہاں مغرب روس پر اقتصادی پابندیاں لگاتا رہا، وہیں بھارت نے تیل، دفاع اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون جاری رکھا۔ اس ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت نہ صرف عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اپنے قومی مفاد کو سب سے اوپر رکھ کر فیصلے کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Asian Games 2026: ’فتح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے!‘ اسکواش میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر امت شاہ نے جوشنا اور ویلون کو دی مبارکباد

ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…

2 hours ago

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

3 hours ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

4 hours ago