اس دیوالی کے موقع پر جب ملک خوشیوں میں ڈوبا ہوگا، بھارت کے لاکھوں محنت کش فکر میں مبتلا ہوں گے۔ وہ لوگ جو کپڑے، زیورات، قالین اور جھینگے (shrimp) تیار کرتے ہیں اور انھیں امریکہ جیسے ممالک میں برآمد کرتے ہیں، آج بے یقینی کا شکار ہیں، کیوں کہ امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد بھاری ٹیکس لگا دیا ہے۔ اس ٹیکس کی وجہ سے بھارتی سامان امریکہ میں بہت مہنگا ہو گیا ہے، جس سے ان کے خریدار کم ہو سکتے ہیں۔ نتیجتاً، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور بہار جیسی ریاستوں کی فیکٹریوں کو بڑے آرڈرز کھونے کا خطرہ لاحق ہے اور لاکھوں لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔
صرف تمل ناڈو میں ہی ٹیکسٹائل صنعت میں 75 لاکھ لوگ کام کرتے ہیں۔ اگر برآمدات کم ہوئیں تو یہاں تقریباً 30 لاکھ روزگار خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ یہی خطرہ جھینگا فارمرز، قالین بننے والوں اور زیور سازوں کو بھی درپیش ہے۔ حکومت ان کے لیے نئے بازار تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر اس میں وقت لگے گا۔ فی الحال ان محنت کشوں کو ہماری، یعنی ہم بھارتی شہریوں، کی ضرورت ہے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ان کی مدد کے لیے ہمیں بس ایک آسان سا کام کرنا ہے کہ ہم دیوالی کی خریداری میں ’’بھارتی مصنوعات‘‘ کو ترجیح دیں۔ درآمد شدہ (imported) سامان کے بجائے اپنے ملک میں بنے کپڑے، قالین، زیورات اور کھانے پینے کی چیزیں خریدیں۔ جب ہم ’’بھارت میں بنی ہوئی‘‘ چیزیں خریدتے ہیں، جیسے اتر پردیش کے قالین، بہار کے مکھانے، آندھرا کے جھینگے، تو ہم ان شعبوں سے منسلک بھارتی خاندانوں کی روزی روٹی بچاتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ ’’بھارت کی چیزیں خریدیں‘‘۔ آج اس پر عمل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ تو آئیے اس دیوالی صرف اپنے گھروں کو ہی نہیں، بلکہ بھارت کے لاکھوں گھروں کو بھی روشنی سے بھر دیں۔ سوادیشی اپنائیں، بھارتی سامان خریدیں اور سب کا تہوار روشن بنائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…