بھارت ایکسپریس اردو-
سنبھل تشدد سے متعلق تشکیل کی گئی عدالتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔
اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال یعنی نومبر2024 میں ہوئے تشدد کے بعد تشکیل کی گئی جوڈیشیل کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کوسونپ دی۔ کمیٹی نے 28 اگست، 2025 جمعرات کورپورٹ سونپی۔ اس رپورٹ میں سنبھل کی آبادی اورڈیموگرافی سے متعلق کئی سنسنی خیزدعوے کئے گئے ہیں۔ 450 صفحات پرمشتمل اس رپورٹ میں شاہی جامع مسجد بنام ہریہرمندرسے متعلق بھی جانکاری دی گئی ہے۔
سنبھل کمیٹی کی رپورٹ میں آبادی سے متعلق سنسنی خیزدعوے کئے گئے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق، ہریہرمندرکی تاریخی وجود کے ثبوت ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حالانکہ بھارت ایکسپریس اردوکے پاس ابھی اس طرح کا دعویٰ کرنے والی رپورٹ نہیں ہے۔ ذرائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے وقت سال 1947 میں 45 فیصد ہندوتھے، اب صرف 20-15 فیصد بچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ فساد اورخوشنودی کی سیاست نے سنبھل کی آبادی کوبدل دیا ہے۔ لیکن یہ بات بہت ہی عجیب وغریب معلوم ہوتی ہے۔
سنبھل کمیٹی رپورٹ میں اورکیا ہے؟
سنبھل میں ہوئے تشدد سے متعلق وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کوتقریباً 450 صفحات کی رپورٹ میں نہ صرف 24 نومبر2024 کوہوئے تشدد کا ذکر ہے بلکہ سنبھل کی تاریخ میں ہوئے فساد کی تعداد کا بھی ذکرکیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان فساد کے دوران کیا کیا ہوا، اس کی بھی تفصیل دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آزادی کے وقت سنبھل نگرپالیکا علاقے میں 55 فیصد مسلم اور45 فیصد ہندورہتے تھے۔ موجودہ وقت میں 85 فیصد مسلم اور15 فیصد ہندو رہتے ہیں۔ سنبھل میں 1947, 1948, 1953, 1958, 1962, 1976, 1978, 1980, 1990, 1992, 1995, 2001, 2019 میں فساد بھی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، آزادی کے بعد سے اب تک کل 15 فساد ہوئے ہیں۔
سنبھل میں دہشت گرد تنظیموں کے سرگرم ہونے کا دعویٰ: رپورٹ
ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں کہا گیا کہ سنبھل کئی دہشت گرد تنظیموں کا اڈہ بن چکا ہے۔ القاعدہ، حرکت المجاہدین جیسی دہشت گرد تنظیمیں سنبھل میں پیرپھیلا چکی ہیں۔ حالانکہ یہ دعویٰ کیوں اورکس بنیاد پرکیا گیا ہے، جب اس کی رپورٹ سامنے آئے گی تبھی حقیقت کا پتہ چل سکے گا، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد تنظیمیں پیرپھیلا چکی ہیں تویہ سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔ سنبھل تشدد سے متعلق تشکیل کی گئی کمیٹی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈجسٹس دیویندرکماراروڑہ، ریٹائرڈ آئی اے ایس امت موہن، ریٹائرڈ آئی پی ایس اروند کمارجین شامل تھے۔ واضح رہے کہ 24 نومبر2024 کوسنبھل میں تشدد ہوا تھا۔ تشدد کے بعد اس عدالتی کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سونپی ہے۔
محکمۂ موسمیات نے ریاست کے پورے مغربی خطے میں شدید سے بہت شدید بارش کے…
آئی سی ایس کے افسر جگدیشور نگم اور کوائٹ انڈیا موومنٹ کے دوران ان کے…
مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں ایندھن اور لاجسٹکس کی بڑھتی لاگت نے…
گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر سدھا یادو کی وزیر اعظم نریندر مودی سے…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے…
گجرات کے دو روزہ دورے کے دوران بناس کانٹھا ضلع میں 407.56 کروڑ روپے کی…