وزیرِاعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2025 کو یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے سے قوم سے خطاب میں ایک انقلابی دفاعی منصوبے کا اعلان کیا، یعنی مشن سدرشن چکر۔ یہ منصوبہ 2035 تک ایک مکمل دیسی اور مربوط فضائی دفاعی نظام قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو بھارت کے فوجی اور شہری انفرا اسٹرکچر کو یکساں طور پر تحفظ فراہم کرے گا۔ یہ نظام اسرائیل کے آئرن ڈوم اور امریکہ کے گولڈن ڈوم سے متاثر ضرور ہے، لیکن اسے بھارت کی مخصوص جغرافیائی و دفاعی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ اس کا مقصد محض حملوں کو روکنا نہیں، بلکہ حملہ آوروں کو فوری اور مؤثر جواب دینا بھی ہے۔
کیا ہیں اس مشن کی اہم خصوصیات؟
واضح رہے کہ مشن سدرشن چکر تین سطحی فضائی دفاعی ڈھانچے پر مبنی ہے:
۔ بیرونی پرت میں S-400 جیسے سسٹمز شامل ہیں جو 400 کلومیٹر تک کے خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
۔ درمیانی پرت میں DRDO کا پروجیکٹ ’’کُشا‘‘ شامل ہے۔
۔ اندرونی پرت میں آکاش پرائم جیسے سسٹمز اہم تنصیبات کو 45 کلومیٹر کے اندر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
یہ نظام جدید سینسرز، AI، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی فوری شناخت، تجزیہ اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک دفاعی ڈھال نہیں، بلکہ ’’شیلڈ اینڈ سورڈ‘‘ کے نظریہ پر مبنی ہے۔ یعنی خطرے کی صورت میں، براہموِس جیسے میزائلوں کے ذریعے فوری جوابی کارروائی بھی ممکن ہوگی۔ یہ مشن خاص طور پر پاور گرڈز، ہسپتالوں، ریلوے اسٹیشنز اور مذہبی مقامات جیسے شہری مقامات کو سائبر حملوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے پر بھی زور دیتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی، چین کی LAC پر سرگرمیاں اور بنگلہ دیش میں حالیہ عدم استحکام، اس مشن کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ حالیہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستانی جوابی حملوں میں بھارت کے شہری انفرا اسٹرکچر کو جو خطرہ لاحق ہوا، اس نے اس مشن کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ لہٰذا ’مشن سدرشن چکر‘ نہ صرف بھارت کے دفاعی نظریے میں بڑی تبدیلی ہے بلکہ خود انحصاری، ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور قومی سلامتی کو مربوط کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم بھی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو 2035 تک بھارت عالمی دفاعی طاقتوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
آئی سی ایس کے افسر جگدیشور نگم اور کوائٹ انڈیا موومنٹ کے دوران ان کے…
مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں ایندھن اور لاجسٹکس کی بڑھتی لاگت نے…
گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر سدھا یادو کی وزیر اعظم نریندر مودی سے…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے…
گجرات کے دو روزہ دورے کے دوران بناس کانٹھا ضلع میں 407.56 کروڑ روپے کی…
مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری میں بنیادی سہولیات کی کمی کی ایک افسوسناک تصویر سامنے آئی…